قربان کا گوشت فریج میں نہیں، پڑوسیوں کے گھر میں

تحریر :عروج عباسی
عیدالاضحیٰ صرف ایک تہوار نہیں، بلکہ ایک جذبے کا نام ہے۔ ایک ایسا جذبہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی پیروی میں انسان کو اپنی سب سے عزیز چیز قربان کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں ایثار، خلوص، بھائی چارے اور اللہ کے حکم پر سرِ تسلیم خم کرنے کا درس دیتا ہے۔
آج کے دور میں جہاں ہر شخص اپنی ذات، اپنی خواہشات اور اپنے آرام کو مقدم سمجھتا ہے، وہاں کچھ دل ایسے بھی ہیں جو دوسروں کی بھلائی کو اپنی خوشی پر ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے لوگ قربانی کے گوشت کو صرف اپنی فریزر بھرنے کا ذریعہ نہیں سمجھتے، بلکہ وہ اسے اللہ کی رضا کا ذریعہ جان کر ان لوگوں تک پہنچاتے ہیں جن کے گھروں میں سارا سال گوشت صرف خواب ہوتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک جملہ بڑی گہرائی سے دل کو چھوتا ہے: “قربان کا گوشت فریج میں نہیں، پڑوسیوں کے گھر میں!”
اس جملے میں ایک ایسی قربانی چھپی ہے جو گوشت کے حصے سے کہیں بڑی ہے۔ یہ ان ماں باپ کی کہانی ہے جو شاید سال بھر بچوں کو گوشت کھلا نہ پائیں، لیکن عیدالاضحیٰ پر جب قربانی کرتے ہیں تو سب سے پہلے اُن دروازوں پر شاپر لے کر جاتے ہیں جہاں غربت دستک دیتی ہے، بھوک چیختی ہے، اور عزت نفس خاموش رہتی ہے۔
یہ ان دلوں کا حال ہے جو رات کو فریزر کے سامنے کھڑے ہو کر سوچتے ہیں کہ
“ہمارے بچے تو سادہ کھانے پر بھی شکر ادا کر لیتے ہیں، لیکن فلاں خالہ کا بچہ تو شاید گوشت دیکھے مہینوں ہو گئے ہوں گے…”
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو دینے کے بعد کسی سے شکریہ کی توقع نہیں رکھتے، صرف دل سے دعا مانگتے ہیں:
“یا اللہ! تُو قبول فرما لے، ہمیں ریاکاری سے بچا لے۔”
یاد رکھیں، اصل قربانی وہی ہے جس میں انسان اپنے نفس کو مار کر دوسروں کو ترجیح دے۔ گوشت بانٹنا محض رسم نہیں، یہ محتاجوں کا دل جیتنے کا موقع ہے۔ عید کا اصل مزہ صرف نئے کپڑے پہننے اور بریانی کھانے میں نہیں، بلکہ کسی کے چولہے پر گوشت چڑھانے میں ہے، کسی کے بچوں کے چہروں پر خوشی لانے میں ہے۔
عید کے دن جب ہم فریزر کے دروازے بند کرتے ہیں تو سوچیں کہ کیا ہم نے صرف اپنے حصے کو محفوظ کیا، یا کسی ایسے کا بھی حق ادا کیا جو خاموشی سے ہر سال ہمارے دروازے کی طرف اُمید بھری نظروں سے دیکھتا ہے؟
کیا ہماری قربانی واقعی اللہ کی رضا کے لیے تھی؟
یا صرف تصویریں کھنچوانے اور سوشل میڈیا پر “الحمدللہ 2 بکرے مکمل” کہنے کے لیے؟
کیا ہم نے گوشت کا وہ حصہ الگ رکھا جس پر کسی یتیم کا حق تھا؟
کیا ہم نے اس بیوہ کو یاد رکھا جو کبھی ہمارے ہی خاندان کا حصہ تھی، مگر اب بھول چکی ہے؟
قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے دل کی خود غرضی کو ذبح کرنے کا نام ہے۔
اگر ہماری قربانی کے بعد ہمارے فریزر خالی رہ جائیں لیکن کسی غریب کے گھر میں پہلی بار سالن پکے،
اگر ہمارے بچے تھوڑا کم کھائیں لیکن کسی یتیم کے چہرے پر مسکراہٹ آئے،
اگر ہم نئے کپڑے نہ پہن سکیں لیکن کسی مجبور ماں کی آنکھوں میں آنسو خوشی سے بہہ جائیں…
تو سمجھ لیں، قربانی مقبول ہو گئی۔
نتیجہ
“قربان کا گوشت فریج میں نہیں، پڑوسیوں کے گھر میں” ایک جملہ نہیں، ایک فلسفہ ہے۔
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی دینے سے خوبصورت بنتی ہے، بانٹنے سے مکمل ہوتی ہے۔
اللہ ہمیں ایسی قربانی کی توفیق دے جو صرف گوشت کی نہیں، بلکہ نفس کی ہو،
ریاکاری سے پاک ہو، اور صرف اس کی رضا کے لیے ہو۔
آئیے اس عید پر صرف اپنے فریزر بھرنے کا نہیں، بلکہ کسی خالی دستر خوان کو سیر کرنے کا بھی ارادہ کریں۔