کالم و مضامین/Articles

مرد اور عورت کے مساوی حقوق

تحریر: عروج عباسی بنتِ منشاد احمد

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں مرد اور عورت کے مساوی حقوق کا تصور ہمیشہ سے ہی یا تو نظر انداز کیا گیا ہے یا پھر اسے غلط نظروں سے دیکھا گیا ہے۔ مساوات کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مرد اور عورت ایک جیسے کام کریں یا ایک دوسرے کی ذمہ داریاں چُرالیں، بلکہ مساوات کا اصل مطلب ہے کہ دونوں کو ان کی ذمہ داریوں اور محنت کے مطابق برابری کے حقوق دیے جائیں۔

آج کا دور ترقی یافتہ ہے۔ عورتیں تعلیم یافتہ ہو رہی ہیں، دفاتر میں کام کر رہی ہیں، میدانِ سیاست میں آ رہی ہیں، اور یہاں تک کہ فوج اور پولیس جیسے شعبوں میں بھی اپنی قابلیت منوا رہی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا معاشرہ انہیں وہی عزت، وہی مقام، اور وہی حقوق دے رہا ہے جو ایک مرد کو حاصل ہیں؟

جب مرد اور عورت دونوں کمانے کے لیے گھر سے نکلتے ہیں تو دونوں ہی محنت کرتے ہیں، وقت دیتے ہیں، ذہنی و جسمانی تھکن برداشت کرتے ہیں۔ لیکن فرق یہاں آتا ہے کہ مرد جب کام کے بعد گھر آتا ہے تو اسے آرام دیا جاتا ہے، جبکہ عورت جب دفتر سے واپس آتی ہے تو اس کے ذمہ گھر کے سارے کام بھی ہوتے ہیں۔ کھانا پکانا، گھر کی صفائی، بچوں کی دیکھ بھال، سسرال کی خدمت—یہ سب اس کے “فرض” میں شمار ہوتے ہیں، جب کہ اس کی تھکن کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔

معاشرے کا یہ رویہ ایک طرف عورت کی محنت کو کم تر ثابت کرتا ہے، اور دوسری طرف مرد کو غیر ضروری فوقیت دے کر ایک غیر متوازن خاندانی نظام کو جنم دیتا ہے۔ اگر عورت کمانے میں مرد کے برابر ہے تو گھریلو ذمہ داریوں میں مرد کا کردار بھی برابر ہونا چاہیے۔ ایک صحت مند اور پُرسکون معاشرہ تبھی قائم ہو سکتا ہے جب دونوں اصناف کو مساوی موقع، عزت اور سہولتیں دی جائیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button