کیا صرف عورت ہی قصور وار ہے؟

تحریر: خالد غورغشتی
بلاشبہ اطفال کی بہترین پرورش اور نشونما میں والدین کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ بالخصوص اگر والدہ بچوں کی اچھی نشونما کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تربیت کو پروان چڑھائے تو ان کی صحت مندانہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اخلاقی کمالات کا نکھار بھی جوہر بن کر سامنے آتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں بچوں کی تربیت کے لیے پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے، یہیں سے پروان چڑھ کر فاتحین، سکندر اور دنیا پر راج کرنے والے بنتے ہیں۔ ماں کی تربیت سے ہی بچوں کی آئندہ زندگی سنورتی یا بگڑتی ہے۔
بدقسمتی سے ہم ہمیشہ سے کمزور پر ظلم ڈھانے والے اورصنفِ نازک کو کمزور سمجھ کر اس پر طرح طرح کے الزامات کی بوچھاڑ کر کے اس کی کردار کشی کرنے والے لوگ ہیں۔
“بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق: انسانی حقوق کے غیر سرکاری ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے مطابق اس سال “جنوری سے اگست” کے دوران “175 خواتین” کے ساتھ گینگ ریپ کیا گیا، جن میں 24 کم عمر بچیاں شامل ہیں، 225 کے ساتھ انفرادی طور پر جنسی زیادتی کی گئی، جن میں 38 کم سن بچیاں ہیں۔ جب کہ دس کو سر عام برہنہ کیا گیا۔ یہ چند وہ واقعات ہیں جو پولیس کے پاس رپورٹ ہوئے یا پھر اخبارات میں شائع ہوئے ہیں۔زیادہ تعداد ایسے واقعات کی ہے جو پس پردہ رہ جاتے ہیں۔خواتین کے عدم تحفظ کا مسئلہ شہر اور گاؤں ہر جگہ اور ہر طبقے کی خواتین کا مسئلہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے اس معاملہ کو نہ صرف معاشرہ نظر انداز کر رہا بلکہ حکومت اور کچھ حد تک خواتین خود بھی اس پر بات کرنا پسند نہیں کرتیں۔ کراچی میں خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم وکلاء برائے انسانی حقوق اور قانونی امداد (ایل ایچ آر ایل اے) کے صدر ضیاء احمد اعوان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کئی پڑھی لکھی خواتین بھی یہ نہیں جانتیں کہ کن رویوں کا شمار جنسی ہراس میں ہوتا ہے۔ ضیاء اعوان کے مطابق “جنسی ہراس کا مطلب صرف جسمانی تشدد نہیں ہے بلکہ اگر کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ زبانی یا اشارتاً ایسا طریقہ اپنائے جس سے وہ عورت اپنے آپ کو جنسی طور سے غیر محفوظ تصور کرے یا جسمانی اور نفسیاتی طور پر دباؤ کا شکار ہو، ایسا رویہ جنسی ہراس میں شامل ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس میں غیر شائستہ اشارے اور مذاق، گھورنا اور دیگر ایسی ہی حرکات و سکنات بھی شامل ہیں جب کہ زنا، عصمت دری وغیرہ جنسی ہراس کی سنگین شکلیں ہیں۔”
سائرہ قیصر اسلام آباد میں ایک ملازمت پیشہ خاتون ہیں۔ “انھوں نے اسلام آباد کی یونی ورسٹی سے ماسٹرز کیا ہے۔ اپنی یونی ورسٹی کا قصہ سناتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ بعض اساتذہ بھی اپنے مرتبے کا احترام مجروح کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے ایک پروفیسر لڑکیوں کے ساتھ غیر شائستہ سلوک کرتے تھے۔ ان کی نا صرف نگاہیں اور انداز ناقابل برداشت ہوتا تھا بلکہ وہ کمپیوٹر سکھانے کے بہانے اکثر لڑکیوں کو چھونے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ کراچی میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی پروگرام آفیسر اور ایچ آر سی پی کی رکن ملکہ خان کا کہنا ہے کہ کتنی ہی خواتین جو اپنے مالی حالات سے مجبور ہوکر کام کے لیے باہر نکلتی ہیں وہ گھر سے قدم باہر نکالنے سے لے کر راستے، دفتر غرض یہ کہ ہر جگہ کسی نہ کسی طرح جنسی ہراس کا شکار ہوتی ہیں۔ اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی ادارے میں کام کرنے والی ایک لڑکی نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کا افسر اُسے بہت تنگ کررہا ہے اور بہ ضد ہے کہ وہ اس کے ساتھ باہر کھانا کھانے اور گھومنے پھرنے جائے اور ساتھ ہی اسے تنخواہ بڑھانے اور ترقی دینے کا لالچ بھی دیتا ہے۔ اس لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ مسلسل انکار کر رہی ہے مگر وہ اب دھمکی آمیز رویہ پر اتر آیا ہے۔ عورت یا لڑکی کے گھر سے باہر قدم نکالتے ہی ان گنت نظریں اس کا تعاقب شروع کر دیتی ہیں۔ یہ رویہ اس قدر عام ہے کہ خواتین اسے معاشرے کی روایات کا حصہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں۔ کراچی کے ایک مصروف بازار میں چند مردوں سے ان کی رائے پوچھی گئی تو انھوں نے نہ صرف یہ تسلیم کیا کہ مرد عورتوں کو واقعی گھورتے ہیں بلکہ اس میں قصور وار بھی انھوں نے عورتوں کو ہی ٹھہرایا۔ کم و بیش سب ہی کا یہ کہنا تھا کہ خواتین خود اپنے حلیے اور حرکتوں سے مردوں کو ایسی حرکات پر مجبور کرتی ہیں۔ ضیاء اعوان کا کہنا ہے: “میں اکثر خواتین کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ عوامی مقامات پر دھوپ کی عینک پہنا کریں تاکہ گھورنے والے افراد کی نظروں کو نظر انداز کرسکیں۔” ایچ آر سی پی کے مطابق سن 2002 ء اور 2003 ء کے موازنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنسی ہراس کے واقعات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ “
ہمارے نزدیک مرد جیسے بھی ہوں، ان کا کردار جیسا بھی وحشیانہ ہوں، ہم مذہبی ٹچ لگاتے ہوئے ہمیشہ کہتے ہیں، مرد جیسے بھی ہیں اچھے ہیں کیوں کہ اکثر عورتیں جہنم میں جائیں گی، کاش ہم نے دین سے یہ بھی سیکھا ہوتا کہ جس نے ذرہ برابر نیکی کی اور ذرہ برابر بدی کی، اسے قیامت کے دن ضرور حساب دینا ہوگا۔ اُس سے ایک ایک فعل کا حساب ہوگا تو ہم کبھی کسی عورت کو ایسے طعنے نہ دیتے۔ پردہ کے معاملے میں ہم نسواں کو قصور وار قرار دیتے ہیں اور جتنی بھی عریانی پھیلا رہی ہیں ہم اس میں اسی کو قصور وار سمجھتے ہیں۔ جب کہ ہمارے نزدیک مرد چار شادیاں کر لے، جب چاہے کسی بھی صنف نازک کا تعاقب کرے، اس کو بلیک میل کرے، اس کی تصاویر لیک کرے، اس کی ویڈیوز وائرل کرے، مگر افسوس اسے کہیں بولنے کی اجازت نہیں، اگر وہ کچھ زبان سے اُگلنے کی کوشش کریں گی تو اس کا مقدر غیرت کے نام پر قتل ہوگا۔ اسلام اور غیرت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے کاش جانتے کہ دینِ اسلام میانہ روی اور بردباری سیکھاتا ہے۔ اگر اسلام نے عورت کو پردے کا حکم دیا ہے تو مرد کو بھی نگاہیں نیچے رکھنے کا واضح حکم صادر فرمایا ہے۔
ہم دین پر کہیں بھی مکمل عمل کرنے کے لیے تیار نہیں، لیکن اس کے نام پر ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کو قتل کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار بیٹھے ہیں، حیرت ہے ویسے دوسروں کی ماؤں بہنوں پر میلی نظریں رکھنے والے جب اپنے گھر پر یہی وبال دیکھتے ہیں تو غصے میں پاگل ہو کر بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
چلیں ایک لمحہ کےلیے تسلیم کر لیتے ہیں سارا قصور عورتوں کا ہی ہے، یہ بے پردگی کرتی ہیں، عریانی پھیلاتی اور بازاروں میں ننگے سر گھومتی ہیں تو کیا ہمارے مرد دن رات ایک کیے عورتوں کا تعاقب نہیں کرتے۔ روزگار کے لیے دُکانوں پر بیٹھے ہمارے مرد کیا خواتین کو اپنے جال میں پھنسانے کے چکر میں نہیں ہوتے؟ رکشوں، بسوں اور ویگینوں والے کیا عورتوں کی آمد ہوتے ہی ایسا عشق بھرا میوزک نہیں لگاتے کہ جس سے جنسی ہوس بڑھے اور وہ اپنے سامنے موجود مخصوص شیشے سے کیا خواتین کو نہیں تکتے؟ اور کنڈیکٹر حضرات کرایہ کے بہانے ہماری قوم کی بیٹیوں پر میلی نظریں جمائے اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑتے جب تک وہ بیچاری اتر نہ جائیں؟ عورتوں کے لیے نسواں بازار نہ ہونے کے باوجود جب وہ مردوں سے خریداری کے لیے نکلتی ہے تو اسے طعنے کس بات کے؟ یا ان کے علیحدہ بازار بناؤ یا طعنے بند کرو۔ ارے ہماری خواتین تو علاج کے لیے اسپتال جائیں تو وہاں کے عملے سے محفوظ نہیں، آپ کسی سے اور کس خیر کی توقع لگائے بیٹھے ہیں؟
ہمارے اکثر مرد کام چور ہیں، جب کہ خواتین کا گھر کا ایک دن کا کام ہمارے مرد کریں تو کمر پکڑ کر بیٹھ جائیں۔ نکمے، کام چور اور عورت کی وجہ سے سنبھالے ہوئے اس مرد کو نہ جانے اپنی برتری دکھانے کے لیے صرف دین کا ہی کیوں سہارا ملا تھا۔ کاش! وہ عملی طور پر بھی کہیں حاکم بن کر دکھاتا، کاش! وہ عمل سے بھی عورت سے بہتر بن کر بتاتا۔ کاش! وہ دین کو ڈھال بنانے کی بجائے اپنے عمل سے ثابت کرتا کہ وہ واقعی عورت سے ہر معاملے میں افضل ہے۔