جنگ بندی کے بعد۔ایران نے کیا پایا، اسرائیل نے کیا کھویا؟

تحریر:صفدر علی خاں
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑ پر ہی ہے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی، جو براہ راست جنگ کے دہانے تک جا پہنچی تھی، امریکی مداخلت کے بعد اب جنگ بندی پر منتج ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس جنگ بندی میں کس نے کیا پایا اور کون کس قیمت پر پیچھے ہٹا؟ اس کا تجزیہ کیا جائے تو واضح ہو کر یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایران کے لیے یہ جنگ بندی کئی لحاظ سے ایک سفارتی فتح بن سکتی ہے کیونکہ پہلی بار ایران نے کھلے عام اسرائیل پر حملہ کیا اور یہ پیغام دیا کہ وہ صرف “پراکسیز” کے ذریعے نہیں بلکہ خود بھی براہ راست مداخلت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران نے اپنے اتحادیوں حزب اللہ، حماس، اور حوثیوں کے ذریعے اپنے اثر ورسوخ کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ یہ چیز علاقائی سیاست میں ایران کی طاقت کو تسلیم کروانے میں مددگار ثابت ہوئی اور آئندہ مزید ہو گی۔لیکن اس کا دوسرا رخ بھی ہے جس سے انکار ممکن نہیں کہ ایران کی معیشت پہلے ہی پابندیوں اور اندرونی بدانتظامی کا شکار ہے اور اس جنگ کے اخراجات، دفاعی انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان اور داخلی سیاسی دباؤ نے ایران کو ایک تھکا دینے والی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ جنگ بندی کے بعد ایران کو اپنے اندرونی معاملات کی طرف خصوصی توجہ دینی ہو گی۔
اسرائیل نے اس جنگ میں اپنی روایتی فوجی طاقت کا بھرپور استعمال کیا۔ آئرن ڈوم نے ایرانی حملوں کا بڑی حد تک کامیابی سے دفاع کیا اور اسرائیل نے ایران کے اندر کئی مقامات کو نشانہ بنا کر یہ ثابت کیا کہ اس کی خفیہ ایجنسیاں اور فوجی مہارت بدستور فعال اور مؤثر ہیں۔تاہم اسرائیل کے لیے یہ پہلی بار تھا کہ ایران نے براہ راست حملہ کیا۔ یہ نفسیاتی دھچکا شاید زیادہ گہرا ہے۔ اسرائیلی عوام اور حکومت کو اب اس سوال کا سامنا ہے کہ اگر آئرن ڈوم ناکام ہو جاتا، تو نتائج کتنے تباہ کن ہوتے؟ اس کے علاوہ جنگ بندی کو بین الاقوامی دباؤ کے تحت قبول کرنا اسرائیل کی “ڈیٹرینس پالیسی” کو کمزور کرتا دکھائی دیتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ بندی وقتی طور پر علاقے کو سکون ضرور دے سکتی ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ ایک “مستقل حل “کی طرف پیش رفت ہے یا محض ایک وقفہ؟ دونوں فریقین نے اپنی اپنی سطح پر کامیابی کا دعویٰ تو کیا ہے، لیکن درحقیقت جنگ کا یہ اختتام ایک نئے مرحلے کا آغاز بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس خطے کا اصل مسئلہ تو فلسطین پر اسرائیل کا ناجائز اور غاصبانہ قبضہ ہے اور جب تک اسرائیل فلسطینوں کو زندہ رہنے کا حق نہیں دیتا،امن ندارد ۔لہذا دونوں ممالک کے درمیان یہ تنازع محض جغرافی یا سیکیورٹی تک محدود نہیں، بلکہ اصل میں اس کے پیچھے نظریاتی، مذہبی اور اسٹریٹیجک بنیادیں کار فرما ہیں۔ جب تک ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، ایسی جنگ بندیاں محض وقتی ریلیف فراہم کرتی رہیں گی، لیکن دیرپا امن کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔جہاں تک اس جنگ بندی میں ایران نے سیاسی اور اسٹریٹیجک برتری کا دعویٰ کیاہے وہ کسی حد تک درست معلوم ہوتا ہے مگر ایران نے اس دوران بہت بھاری اقتصادی اور داخلی قیمت چکانے کے علاوہ قیمتی جانی نقصان بھی اٹھایا ہے۔ اسرائیل نے بھی فوجی قوت تو دکھائی مگر نفسیاتی اور حربی طور پر وہ دفاعی پوزیشن میں آ چکا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریق جانتے ہیں کہ ان کے لئے اس جنگ و جدل میں مکمل فتح کا کوئی امکان نہیں – صرف عارضی جیت یا وقتی پسپائی ہے اور ہمارے خیال میں یہی مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کی اصل تلخی ہے کیونکہ ظالم اسرائیل فلسطین میں موجود ہے۔