کالم و مضامین/Articles

یہ کائنات اب نفرتوں سے پناہ مانگتی ہے

تحریر: خالد غورغشتی

روایتوں میں ہے کہ اللہ عزوجل بندوں پر اس قدر مہرباں ہے کہ وہ ستر ماؤں سے بڑھ کر انسان سے پیار کرتا ہے، ایک ممتا کا پیار اس قدر ہوتا ہے کہ بندہ ساری عمر اس کے گن گائے تو کم ہے۔ یہی پیار و محبت ہے؛ جس کے لیے اس جہان کو تخلیق کیا گیا۔ آپ تخلیق انسانی کے باب میں محبت کو فراموش نہیں کر سکتے۔ اصولاً کائنات کا ذرہ ذرہ محبتوں کا شیدائی ہے، نفرتوں سے تو شیطان مردود بھی پناہ مانگے اور ہم انسانوں سے نفرت کر کے اپنے منصبِ خلافت کی پامالی کرتے چلے جا رہے ہیں۔

یہ محبت ہی ہے؛ جس کے بَل بوتے پر انسان نے ہمیشہ اُونچی اڑان بھری ہے، بلندیوں سے ہم کِنار ہوا ہے، کامیابیوں کے تمغِے سمیٹے ہیں۔

ہماری زندگی کے شب و روز بڑے قیمتی ہیں، ان کو نفرتوں کی بھینٹ چڑھا کر اپنے قیمتی وجود کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ اس دھرتی پر ہر رنگ، نسل، خاندان، قبیلے، مسلک، تنظیم، جماعت اور مذہب کے لوگ بستے ہیں، آج ہم، سب کو ایک ہی رنگ و ڈھنگ پر تولنے کے عادی ہو چکے ہیں، ہر معاملے میں نفرت ہی کیوں رہ گئی ہے، ہماری ہر بات نفرتوں سے شروع ہو کر نفرتوں پر ہی کیوں ختم ہوتی ہے؟ ہر انسان آپسی خلفشار اور انتشار سے پناہ مانگتا ہے مگر وہ دوسروں کے لیے ایسی راہیں کیوں ہم وار کرتا ہے؛ جس سے آپس میں نفرتیں اور بگاڑ پیدا ہو۔

انسان فانی نہیں، کائنات فانی ہے؛ محبت فانی نہیں، نفرت فانی ہے۔ اس لیے نفرتیں کر کے خود کو سزا کا موجب نہ بنائیں۔ نفرتیں پیدا کرنے والے آپ کو ہزاروں لوگ مل جائیں گے جو مختلف حیلے بہانوں سے آپ کے رِشتُوں میں دراڑیں ڈال کر خود بھی بے چین رہیں گے اور آپ کو بھی بے چین کر دیں گے۔

آج بہترین رہائش، اعلی سہولیات کے باوجود سب مضطرب اور مختلف بیماریوں کا شکار کیوں ہیں؟ دراصل سیانے کہتے ہیں جو بوؤ گے وہی کاٹو گے، جیسا کرو گے ویسا ہی بھرو، ہم نے نسل در نسل بُغض، کینے اور حسد کی فصلیں بوئیں اور آج نفرتوں کے پھل کھا رہے ہیں۔ اکثر والدین سے شکوہ کرتے سُنا ہے؛ بچے ان کا کہنا نہیں مانتے، تو کیا بہ طور والدین ہم نے ان کی ایسی تربیت کی ہے کہ وہ ہماری بات مانیں؟ جو شریعتِ مُطہرہ نے اَسّی حقوق بیان کیے ہیں، کیا ان کو ہم نے ادا کیا؟ اگر نہیں تو یاد رکھیں! تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے ایک سے نہیں، جو بچوں کو سیکھاؤ گے؛ وہی کل ان سے پاؤ گے۔ ہمیں گِلے شِکوے کرنے کی بجائے؛ غور و فکر کرنی چاہیے، ہم نے اپنی نسلوں کو کیا دیا، ان کو حلال کر کے کھلایا یا حرام کھلایا، ان کی بری صحبتوں میں تربیت کی یا اچھے ماحول میں پرورش کی؟ ان سے لاڈ پیار سے بات کی یا گالم گلوچ سے، کیوں کہ جیسا سلوک ہم اپنے بچوں سے رکھتے ہیں؛ ویسا ہی برتاؤ وہ ہم سے بعد میں کرتے ہیں۔ ہاں جیسا ہم کرتے ہیں، ویسا بھرتے بھی ضرور ہیں۔

انسانوں کے گھر تو انسان ہی پیدا ہوتے ہیں، جانوروں کے گھر ہمیشہ درندے پیدا ہوا کرتے ہیں۔ بڑی بڑی مثالیں دے کر آج ہم زمانے کو قائل نہیں کر سکتے، آج سوشل میڈیا کا دور ہے اور بچہ بچہ ہر معاملے کی جانچ پڑتال کرنے کی اہلیت رکھتا ہے، ہمیں بہ طور والدین، اساتذہ اور رہبر غور کرنا ہے کہ ہم نے نسلوں کو کیا دیا اور ان سے کیا توقع لگائے بیٹھے ہیں۔

ہماری معاشرتی تباہی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہم نے اختلافِ رائے کو دشمنی کا درجہ دے دیا ہے۔ جو ہم سے متفق نہ ہو، وہ ہمیں دشمن دکھائی دیتا ہے۔ یہ رویہ صرف معاشرتی سطح پر نہیں بلکہ خاندانی اور مذہبی سطح پر بھی سراٹھا رہا ہے۔ حالانکہ اگر ہم قرآن اور سیرتِ نبوی کا مطالعہ کریں تو ہمیں ہر قدم پر رواداری، برداشت، معافی اور حلم کی تلقین ملتی ہے۔ محبت کا دین ہمیں نفرت سے نہیں، ہمدردی سے جیتنے کا درس دیتا ہے۔ لیکن آج ہم ہر بات کو انا کا مسئلہ بنا کر، تعلقات کو توڑ کر، دشمنیاں پال کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہ طرزِ فکر صرف روحانی زوال کا نہیں، معاشرتی خودکشی کا راستہ ہے۔

زندگی کا حُسن اُس وقت نِکھرتا ہے، جب انسان دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ جو دل محبت بانٹتا ہے؛ وہی دل سکون پاتا ہے۔ ہمیں اپنی سوچ، گفتگو اور عمل سے محبت کو فروغ دینا ہو گا۔ اپنے گھروں سے لے کر سڑکوں تک، اِسکولوں سے میڈیا تک، ہمیں ایسی فِضا قائم کرنی ہو گی، جہاں بَردَاشت کو طاقت، اختلاف کو حُسن، اور معافی کو کامیابی سمجھا جائے۔ دُنیا کو بدلنے کے لیے ہمیں پہلے اپنا دل بدلنا ہوگا اور وہ دل محبت سے ہی بدلے گا۔ محبت ہی وہ واحد خزانہ ہے؛ جو بانٹنے سے کم نہیں ہوتا، بلکہ بڑھتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button