کالم و مضامین/Articles

ثناء یوسف اور سماج کی بے حسی

تحریر: عروج عباسی

کیا ایک لڑکی کی زندگی اتنی سستی ہے کہ صرف “نہ” کہنے پر اسے موت کی سزا دے دی جائے؟ کیا عورت کی مرضی کی کوئی حیثیت نہیں؟ کیا دوستی سے انکار، انکارِ زندگی بن چکا ہے؟

یہ سوالات ثناء یوسف کے بہیمانہ قتل کے بعد ہر حساس دل کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔ ثناء، ایک عام سی لڑکی تھی۔ اس کے خواب تھے، ارمان تھے، عزت سے جینے کی خواہش تھی۔ لیکن وہ لڑکی صرف اس لیے قتل کر دی گئی کیونکہ اُس نے ایک لڑکے کی “دوستی” قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

یہ انکار اس کے لیے “سزاۓ موت” بن گیا۔
ثناء یوسف ایک اور بیٹی، ایک اور لاش۔۔۔

یہ پہلا واقعہ نہیں، مگر ہر بار ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے پہلی بار دل چھلنی ہوا ہو۔
ثناء کا قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں “نہ” کہنا جرم بن چکا ہے۔

جہاں عورت کو اپنی مرضی، پسند یا ناپسند کا حق دینے کے بجائے، اسے سزا دی جاتی ہے۔
کیا انسان کا رشتہ صرف جبر سے قائم ہوتا ہے؟ کیا ایک لڑکی کی خودمختاری مرد کے انا کا مسئلہ بن چکی ہے؟

جرم اور بے حسی، یہ کیسا معاشرہ ہے؟

اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہو گا کہ ایک لڑکی جو تعلیم حاصل کر رہی تھی، جو اپنا مستقبل سنوارنا چاہتی تھی، صرف ایک انا پرست، خودغرض، اور جنونی ذہنیت کا شکار ہو گئی۔
ایسا لگتا ہے جیسے خودپسند مردوں کو انکار برداشت نہیں۔ وہ لڑکیاں جو اپنے اصولوں پر قائم رہیں، جنہوں نے عزت کو اہمیت دی، انہی کو عبرتناک انجام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کیا ہم اسی معاشرے میں جیتے ہیں جہاں بیٹیوں کو عزت دینے کی بات کی جاتی ہے؟
تو پھر ثناء یوسف کو کیوں قتل کیا گیا؟
اس کا جرم کیا تھا؟
صرف اتنا کہ اس نے کسی کی دوستی یا محبت کو ٹھکرا دیا؟ کیا انکار جرم ہے؟

ہم خاموش کیوں ہیں؟

ہم ہر بار بینرز اٹھاتے ہیں، شمعیں جلاتے ہیں، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز لگاتے ہیں، مگر پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔
قاتلوں کو کھلی چھوٹ ملتی ہے، قانون سست روی کا شکار رہتا ہے، اور اگلی ثناء، اگلی نور، اگلی زینب… قتل کر دی جاتی ہے۔

اب خاموشی جرم ہے۔
اب مذمت کافی نہیں، انصاف چاہیے۔
قاتل کو سرِعام ایسی سزا ملنی چاہیے کہ آئندہ کوئی بھی کسی بیٹی کو اس لیے قتل نہ کر سکے کہ اس نے “نہ” کہا تھا۔

انصاف کب ہوگا؟

ثناء یوسف کا لہو پکار رہا ہے۔
اس کا سوال ہے،
“میری ماں کیوں رو رہی ہے؟
میرے باپ کی آنکھیں کیوں پتھر ہو گئی ہیں؟
میرے خوابوں کا خون کس نے کیا؟
میرا قصور کیا تھا؟”

ہمیں ان سوالات کا جواب دینا ہے۔
ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ اب اور کوئی ثناء قتل نہیں ہوگی۔

مطالبہ: ثناء یوسف کے قاتل کو عبرتناک سزا دی جائے

یہ صرف ایک قتل نہیں، یہ پورے معاشرے کا امتحان ہے۔
اگر آج خاموش رہے تو کل یہ خنجر ہماری بیٹیوں کے دل چیرے گا۔
ہمیں ثناء یوسف کے لیے انصاف چاہیے۔
نہ صرف انصاف، بلکہ ایسا انصاف جو مثال بن جائے۔

ہر حادثہ ایک صدا… ثنا یوسف کی خاموش چیخ

بعض سانحات محض ذاتی المیے نہیں ہوتے، وہ قوموں کے شعور کو جھنجھوڑنے کے لیے آتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمارے گھروں کی دہلیز پر جو چراغ جل رہے ہیں، کیا ہم واقعی ان کی روشنی کی حفاظت کر پا رہے ہیں؟

ثنا یوسف… ایک اور خاموش نام… ایک اور ٹھنڈی ہوتی سانس… ایک اور نوحہ جو ہمارے گلی کوچوں میں گونجتا ہے، مگر ہم میں سے اکثر اسے نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مگر ایسے سانحات ہمیں کچھ سکھاتے ہیں — اگر ہم سیکھنے پر آمادہ ہوں۔

پہلا سبق: خاموشی خطرہ ہے
ہمیں اپنی بیٹیوں، بہنوں، اور طالبات کو سکھانا ہوگا کہ اگر کوئی اجنبی، کلاس فیلو، یا محلے دار ان سے “رابطہ” یا “تعلق” کی کوشش کرے، اور ایک صاف انکار کے باوجود پیچھا نہ چھوڑے، تو وہ اس رویے کو معمولی نہ سمجھیں۔ خاموشی مت اپنائیں۔
گھر کے بڑوں کو اعتماد میں لیں۔
ماں، باپ، بھائی، استاد کوئی بھی وہ سایہ ہو سکتا ہے جو بروقت کھڑا ہو جائے۔ مسئلے کو چھپانے کی نہیں، بانٹنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اکثر اوقات، بظاہر “معمولی” تاثر رکھنے والے یہی رویے بعد میں “سنگین جرم” بن کر سامنے آتے ہیں۔

دوسرا سبق: رد ہونا جرم نہیں
اپنے بیٹو۔

ثناء یوسف کو کیوں قتل کیا گیا؟

آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ فیصل آباد کا رہائشی 22 سالہ عمر میٹرک پاس طالب علم ہے جو سوشل میڈیا پر پروموشن کے ذریعے پیسے کماتا ہے۔ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ملزم عمر کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے اور ان کے والد ایک ریٹائر سرکاری ملازم ہیں۔ ملزم ثناء یوسف سے بار بار رابطہ کرتا رہا لیکن ثناء یوسف انکار کرتی رہی۔ اس سے قبل ملزم ثناء یوسف کے گھر آیا لیکن آٹھ گھنٹوں تک انتظار کے باوجود ملاقات نہ ہوسکی۔ 29 مئی کو ثناء کی سالگرہ کے روز بھی ملاقات کی کوشش کی گئی لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ وقوعہ کے روز ملزم نے ملاقات کی کوشش کی لیکن ناکامی کی صورت میں اس نے گھر میں گھسنے کی منصوبہ بندی بنائی اور پھر یہ وقوعہ پیش آیا۔ آئی جی اسلام آباد کے مطابق ملزم ثناء یوسف سے دوستی کرنا چاہتا تھا جبکہ وہ انکار کرتی رہی۔ جس کی پاداش میں اسے قتل کردیا گیا۔

لال گولی، نیلی گولی ، پستول کی گولی ، انسل اور ثنا !

“مجرم ثناء یوسف سے بار بار رابطہ کرتا رہا لیکن ثناء یوسف انکار کرتی رہی۔ اس سے قبل ملزم ثناء یوسف کے گھر آیا لیکن آٹھ گھنٹوں تک انتظار کے باوجود ملاقات نہ ہوسکی۔

29 مئی کو ثناء کی سالگرہ کے روز بھی ملاقات کی کوشش کی گئی لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ وقوعہ کے روز ملزم نے ملاقات کی کوشش کی لیکن ناکامی کی صورت میں اس نے گھر میں گھسنے کی منصوبہ بندی بنائی اور پھر یہ وقوعہ پیش آیا۔

آئی جی اسلام آباد کے مطابق ملزم ثناء یوسف سے دوستی کرنا چاہتا تھا جبکہ وہ مسلسل انکار کرتی رہی”

لیجیے جناب آ پہنچی ہمارے ہاں بھی وہ بیماری جس کا نام Incel ہے ۔

خود کو انسل Incelسمجھنے والا مرد یا لڑکا شدید احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے کہ کوئی بھی لڑکی اسے گھاس کیوں نہیں ڈال رہی ؟ وہ اس کی پیشقدمی کو قبول کرتے ہوئے اس کی محبوبہ کیوں نہیں بن رہی ؟ اس مرد یالڑکے کے خیال میں اس لڑکی کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ اسکی محبت یا جنسی پیش رفت کو رد کرے۔ ایسا کرنا اس مرد / لڑکے کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔ اس کی محبت شدید نفرت میں بدل جاتی ہے اور وہ اس لڑکی کو مزا چکھانے کا سوچتا ہے ۔

کیسا مزا ؟

وہی جو ثنا یوسف نے زندگی کی بازی ہارنے کی صورت میں چکھا ۔

دو ہزار بائیس میں ایک ریسرچ سائیکٹری کے ایک جرنل میں چھپی جسے نیشنل لائیبریری آف میڈیسن میں بھی جگہ ملی کے مطابق انسل کی آئیڈیالوجی کی اس طرح وضاحت کی گئی :

1- جو اس بات پہ فرسٹریٹڈ محسوس کریں کہ لڑکیاں صرف پڑھے لکھے اور اچھے سٹیٹس کے مردوں سے تعلق بناتی ہیں ۔

2-جنہیں یہ گلہ ہو کہ لڑکیاں ان کی پیش قدمی قبول نہ کرتے ہوئے انہیں مسترد کیوں کرتی ہیں ؟

3-وہ مرد جو فیمنزم سے نفرت کرتے ہوں۔

آپ کو یہ سن کر حیرت ہو کہ انٹر نیٹ کی دنیا میں انسل مردوں کے گروہ بن چکے ہیں جو ہر وقت یہ بحث مباحثہ کرتے ہیں کہ فیمنزم نے عورت کو اتنی جرات دی کہ وہ اپنے لیے اپنی مرضی کا مرد چنے اور اپنی مرضی سے جنسی تعلق بنائے یعنی میرا جسم ، میری مرضی کو پریکٹس کرے ۔

جبکہ ان مردوں/لڑکوں کے مطابق جنسی تفاوت کو ختم کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ۔ عورتوں /لڑکیوں کے دماغ میں بھرا خناس نکالنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ ان کو ریپ کیا جائے، ڈنڈے کے زور پہ مطیع بنا کر جنسی تعلق قائم کیا جائے اورپدرسری کے مرد حاکمیت قوانین کو نہ چھیڑا جائے ۔ انسل مردوں / لڑکوں کا خیال ہے کہ وہ جس سے بھی چاہیں جنسی تعلق قائم کرنے کا اختیار رکھتے ہیں ۔

انسل مرد انٹر نیٹ کی دنیا کا ایک اہم اور پھیلتا ہوا گروہ ہیں اور خاص اشاروں کی مدد سے یہ بات کرتے ہیں ۔ ان اشاروں میں ایک اہم علامت لال گولی اور نیلی گولی ہیں ۔ یہ اشارہ فلم میٹرکس سے لیا گیا جو انیس سو ننانوے میں ریلیز ہوئی ۔

انسل کے مطابق لال گولی گروپ میں وہ مرد / لڑکے ہیں جن کی محبت اور جنسی تعلق ٹھکرا کر لڑکیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ فیصلے کی طاقت ان کے ہاتھ میں ہے ۔ اور نیلی گولی کا گروپ ان مردوں کی نشان دہی کرتا ہے جنہیں لڑکیاں قبول کرتی ہیں ۔

جب مرد خود کو لال گولی سے متعارف کروائیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ذہنی طور پہ اس بات کو قبول کر چکا ہے اور اب کچھ بھی کر سکتا ہے ۔

لال گولی والے جب کسی انتہا پہ پہنچ جائیں تو خود کو کالی گولی گروپ میں ڈال دیتے ہیں جس کے مطابق اب کچھ نہیں ہو سکتا اور انتہائی قدم اٹھانا ہی ٹھیک راستہ ہے ۔

اس طرح سے انسل Incel کے تصور نے جنسی تعلق کو ایک کھیل بنا دیا ہے جس میں درپیش چیلنجز پہ مردوں نے قابو پانا ہے ۔

کچھ عرصہ پہلے نیٹ فلکس پہ ایک فلم اڈولیسنس کے نام سے ریلیز ہوئی جس میں تیرہ سالہ لڑکا اپنی کلاس فیلو کو اس لیے قتل کرتا ہے کہ وہ اس کی محبت کا جواب محبت سے کیوں نہیں دے رہی ؟

ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ لڑکی چاہے مغرب میں ہو یامشرق میں ، کہیں بھی محفوظ نہیں ۔ مرد کے مسوجنسٹک رویے نے جنگل کی یاد تازہ کروا دی ہے جب غار کلچر کے مطابق عورت کی ملکیت کا فیصلہ مرد کی طاقت پہ ہوتا تھا۔ غار ختم ہو گئے ، مرد کی طاقت کو فیمنزم نے چیلنج کرنا شروع کر دیا اور اب مسوجنی طرح طرح کے روپ میں سامنے آرہی ہے جس کے مطابق اگر میں تمہیں حاصل کرنا چاہوں تو تمہاری یہ مجال کہ مجھے انکار کروں … چہ پدی چہ پدی کا شوربہ !

اسلام آباد میں قتل ہونے والی بچی کا ایک نوعمر لڑکے کے ہاتھوں قتل انسل کی ایک کلاسیک مثال ہے ۔ لیکن ان سب کے لیے لمحہ فکریہ بھی جو اکسیویں صدی کی دنیا میں سانس لیتے ہیں مگر خود قرون وسطی کی دنیا میں جینے کی خواہش رکھتے ہیں ۔

وہ مرد جو لڑکیوں کا ٹک ٹاکر ہونے پہ ٹھٹھے لگاتے ہوئے کہہ رہے ہیں وہ اس بات سے ڈریں کہ کل ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا ٹین ایجر بھائی یا بیٹا جیل کی دیواروں کے پیچھے بیٹھا ہو ۔

عورت کو ارزاں سمجھنے کی نفرت ، میراجسم میری مرضی والیوں کو واصل جہنم کرنے کی خواہش رکھنے والوں سے یہ کہنا ہے کہ دیکھیے کہیں جہنم کے ایندھن کا حصہ آپ کے پیارے نہ بن جائیں ۔

ہم ہر خاص و عام کو سمجھائے دیتے ہیں !

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button