کالم و مضامین/Articles

یومِ آزادی 2025: معرکہ حق، بنیان مرصوص اور نئی راہیں

تحریر: عزیز الرحمٰن
بارش کے بعد کی خوشگوار ہوا، سبز پرچموں کی لہریں، بچوں کے ہاتھوں میں رنگ برنگی جھنڈیاں اور فضاؤں میں گونجتے قومی نغمے14 اگست کا یہ منظر ہر پاکستانی کے دل میں ایک نئی دھڑکن پیدا کرتا ہے۔ یہ دن محض کیلنڈر کی تاریخ نہیں بلکہ وہ لمحہ ہے جس پر آزادی کی سنہری تحریر لاکھوں قربانیوں کے لہو سے لکھی گئی۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا سفر ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ تعلیم، اتحاد اور قربانی کی راہوں پر یہ قافلہ آگے بڑھتا رہے گا۔پاکستان… وہ خواب جو علامہ اقبال کی بصیرت اور قائداعظم کی قیادت نے حقیقت میں بدلا۔ وہ چراغ جو لاکھوں قربانیوں سے روشن ہوا۔ آج 78 سال بعد ہم نہ صرف اپنی آزادی کا جشن منا رہے ہیں بلکہ اس کے دفاع کی لازوال داستانیں بھی سنہری حروف میں رقم کر چکے ہیں۔اسی جذبے کی جھلک 14 اگست کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی فضاؤں میں بھی نمایاں تھی۔ سبز ہلالی پرچم، قومی ترانہ اور پرعزم نگاہیں اس عہد کی تجدید کر رہی تھیں کہ پاکستان کی آزادی اور وقار کی حفاظت ہر حال میں کی جائے گی۔ تقریب کا آغاز یونیورسٹی کے چاک و چوبند سیکیورٹی گارڈز کے گارڈ آف آنر سے ہوا جو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود کو پیش کیا گیا۔ پرچم کشائی کے موقع پر ایسا لگا جیسے پوری قوم یک زبان ہو کر یہ وعدہ دہرا رہی ہو کہ وطن کا ہر انچ محفوظ رہے گا۔اس کے بعد ”پاکستان منزل بہ منزل” کے عنوان سے سیمینار ہوا جس کی صدارت ڈاکٹر ناصر محمود نے کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ آزادی سب سے بڑی نعمت ہے اور اس کی قدر وہی جانتا ہے جو اس سے محروم ہو۔جیسے فلسطین کے عوام جو آج بھی آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال یومِ آزادی ہم ”معرکہ حق” اور ”آپریشن بنیان مرصوص” کی کامیابیوں کے ساتھ منا رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اپنے دفاع میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔انہوں نے بتایا کہ مئی 2024 میں دشمن کی جارحیت کو ہماری مسلح افواج نے بروقت ناکام بنایا جس سے دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دنیا کے صرف سات ممالک ایٹمی طاقت رکھتے ہیں اور پاکستان ان میں شامل ہے—یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے کہ ہم اپنے دشمن کے ہر وار کا بھرپور جواب دے سکتے ہیں۔ڈاکٹر ناصر نے مزید کہا کہ پاکستان نے بے شمار چیلنجز کے باوجود ترقی کی راہ پر گامزن رہتے ہوئے ہر شعبہ زندگی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ آج سے بیس سال قبل کے مقابلے میں ہم کہیں زیادہ ترقی یافتہ مقام پر کھڑے ہیں۔تعلیم و تربیت پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ناصر نے کہا کہ نئی نسل کی شخصیت سازی اور اخلاقی تربیت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ جامعات کو محض ڈگریاں دینے کے بجائے طلبہ کی فکری، اخلاقی اور عملی تربیت پر توجہ دینی ہوگی تاکہ ہم ایک باشعور، باصلاحیت اور ذمہ دار معاشرہ تشکیل دے سکیں۔دیگر مقررین نے کہا کہ پاکستان نے قیام سے اب تک ناممکن کو ممکن بنایا ہے۔ 1947 میں ایک یونیورسٹی تھی آج یہ تعداد 500 سے زائد ہے مگر اصل ترقی اس وقت ہوگی جب ہم دفاع کے ساتھ تعلیم کو بھی اپنی سب سے بڑی ترجیح بنائیں گے۔آخر میں جشنِ آزادی کا کیک کاٹا گیا اور ”پاکستان زندہ باد” کے نعروں نے فضا کو گونج دار بنا دیا۔
راقم کے خیال میں یومِ آزادی محض چراغاں اور نعروں کا دن نہیں یہ اپنے ماضی سے سبق لینے اور مستقبل کے لیے نیا عزم باندھنے کا لمحہ ہے۔ آج ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم قومی یکجہتی، ادارہ جاتی مضبوطی اور جدید ٹیکنالوجی میں خود کفالت کو خواب نہیں، حقیقت بنائیں گے۔ ہمارا اصل ”معرکہ حق” اب معیشت کی بحالی، سیاسی استحکام اور تعلیم کے معیار کی بلندی ہے۔ دشمن کے ٹینک اور گولیاں جتنی مہلک ہیں، ہماری صفوں میں موجود جہالت، کرپشن اور باہمی نفرت بھی اتنی ہی تباہ کن ہیں۔ اگر ہم نے علم اور کردار سازی کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنا لیا تو کوئی طاقت ہمیں ترقی، عزت اور وقار کی بلندیوں سے نہیں روک سکے گی۔ یہی عہد میرا بھی ہے… اور ہونا ہر پاکستانی کا چاہیے۔راقم

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button