سچ کی پتھریلی راہوں کے راہی بیرسٹر دانیال کی مثبت سوچ کو سلام

تحریر۔راجہ شاھد رشید
بلند و بانگ دعوے کرنا ہمیشہ سے ہی ہمارے حکمرانوں کا وطیرہ رہا ہے۔ اس ضمن میں ہمارے معاملات و تجربات انتہائی تلخ ہیں اور عجیب بھی۔ ماضی میں ہمارے کرتا دھرتا ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے بڑے بڑے دعوے کرتے رہے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔ یار لوگ اپنے ان کمزور دعوٶں کو درست ثابت کرنے کے لیے اعداد و شمار بھی گھڑ لیتے ہیں لیکن وہ الفاظ کے گورکھ دھندوں کے سوا کچھ نہیں نکلتے۔ باقی کے تمام تر استدلال مردہ ثابت ہو جاتے ہیں صرف ایک دلیل کے سامنے کے دیس و سماج میں ترقی و کامرانی اور ہریالی و خوشحالی سامنے نظر بھی تو آۓ اور خصوصی طور پہ اس کے اثرات و ثمرات کی ایک عام انسان تک رسائی کا ممکن ہونا بھی نہایت ہی ضروری ہے بلکہ لازم و ملزوم ہے۔ آج بھی ہم وہیں پہ کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے۔ معیشت ICU میں ہے اور آئی ایم ایف کے وینٹیلیٹر پر ہے۔ مہنگائی، بھوک بے روزگاری اور غربت نے ایک عام پاکستانی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ امیر مزید امیر ہو رہا ہے، غریب خطِ غربت سے بھی نیچے جا رہا ہے جس طرح سرمایہ دارانہ نظام میں ہوتا ہوتا ہے۔ بڑے بڑے محلات بنگلوں میں بڑے لوگوں کے گھوڑے اور کتے تو سونے کے نوالے لیتے ہیں جبکہ غریب عوام کھانے کو دو وقت کی روٹی کو روتے ہیں اور پینے کو صاف پانی کو ترستے ہیں۔ جیسے ہم چل رہے ہیں کسی بھی صورت میں ملک میں معاشی استحکام نہیں آ سکتا جب تک سیاسی استحکام نہیں ہوگا۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف حکومت و اپوزیشن بلکہ بالخصوص مقتدرہ بھی ساتھ ساتھ ہو اور تمام فریقین آپس میں مل بیٹھیں اور ملک و قوم کا سوچیں۔ اپنی اپنی ضد اور انا کے دائرے سے باہر نکل کر ملک میں سیاسی استحکام لائیں، معاشی استحکام لائیں۔ پارلیمانی سیکرٹری انفارمیشن بیرسٹر دانیال چوھدری نہایت ہی عمدہ و اعلیٰ ساکھ کے حامل سیاسی رہنما کی حیثیت سے ملک بھر میں جانے مانے جاتے ہیں۔ موصوف ایک بااخلاق و باادب اور باشعور و باوقار انسان ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی بلکہ پی ٹی آئی کے عوامی حلقوں میں بھی لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائے ہوئے ہیں اور بالخصوص وہ نوجوانوں میں ہردلعزیز اور مقبول شخصیت ہیں۔ بقول شاعر۔
تُو آس ہے کل کی اور امید ہے آج کی
تُو فخر و توقیر ہے اس دیس و سماج کی
وزارت اطلاعت و نشریات کے پارلیمانی سیکرٹری بیرسٹر دانیال چوہدری سے میں دو تین بار ہی ملا ہوں، میرا ان سے زیادہ رابطہ واسطہ تو نہیں رہا لیکن اس کے باوجود بھی ان کے حوالے سے میری رائے اچھی ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ موصوف کی سوچ مثبت و تعمیری ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ بھلائی اور سچائی کی پتھریلی راہوں کے راہی ہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز مذاکروں میں دلیل کے ساتھ معیاری و منفرد گفتگو فرماتے ہیں جیسے وہ اپنے سیاسی مخالفین سے محاذآرائی اور بگاڑ نہیں بنانا چاہتے بلکہ انہیں اپنے قریب کرنا چاہتے ہیں۔ عہدِ موجود میں میری رائے میں ہر سیاستدان بولنے سے پہلے ضرور تولے اور مذاکرات و مفاہمت کو ہی اپنی منزل و معراج جانے کیونکہ سیاسی استحکام اور جمہوریت و آئین کی بالادستی کے لیے یہی تو سچ صراط ہے جس پہ حکومت و اپوزیشن دونوں کو چلنا چاہیے۔ بیرسٹر دانیال نے گزشتہ دنوں پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر مس جین میریٹ سے ملاقات کی، جس میں جمہوری اداروں کے استحکام، سمندر پار پاکستانیز کی سہولت اور دو طرفہ تعاون کے فروغ پر مفصل گفتگو ہوئی۔ بیرسٹر دانیال نے پاکستان کی جمہوری پیشرفت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار جمہوریت کے لیے مکالمہ اور مضبوط ادارے ناگزیر ہیں۔ پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) سے متعلق تخفیف غربت اور تعلیم کی پارلیمانی کمیٹیوں کے فعال رکن بیرسٹر دانیال نے معزز ہائی کمشنر کو اپنے انتخابی حلقہ میں تعلیمی اصلاحات کا مشاہدہ کرنے کی دعوت دی۔ ملاقات میں غربت کے خاتمے اور پسماندہ طبقات کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے مختلف پہلوؤں پر بھی بات چیت ہوئی۔ بیرسٹر دانیال نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت پاکستان منفی پروپیگنڈا اور گمراہ کن معلومات کے تدارک کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت موقف کو اجاگر کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ میں ان کی اس بات سے متفق ہوں اور میرے خیال میں اس چیز پہ خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ تبدیلی سرکار نے اپنے عہد میں اپنی بدعہدیوں، بدکلامیوں، ناقص خارجہ پالیسیز اور برائے نام سفارتکاری سے سارے عالم کو ناراض کر کے اپنا دشمن بنا لیا تھا۔ عالمی سطح پر کوئی پاکستان کا نام سننے کو تیار نہ تھا لیکن آج ہم بہتر پوزیشن پر ہیں اس لیے عالمی میڈیا بھی ہمیں سمجھنے لگا ہے بلکہ سراہنے لگا ہے۔ اب تو ”واشنگٹن پوسٹ“ بھی شہادت دے رہا ہے کہ کامیاب سفارتکاری کی بدولت پاک امریکہ تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچ گئے ہیں اور ان تعلقات کے حوالے سے دنیا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کامیاب ڈپلومیسی کی معترف ہوگئی۔ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی تعریف کی۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورہ امریکہ کو پاک امریکہ تعلقات میں ”ایک نئی جہت کی علامت“ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ”اکانومسٹ“ نے بھی اپنے تفصیلی مضمون میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا معمار قرار دیا اور ان کی 18 جون کی وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کو خطے میں سفارتکاری کا نیا موڑ قرار دیا ہے۔