بایاں ہاتھ

ثمینہ رحمت منال
بچپن سے سن رہے ہیں اور کتابوں میں پڑھتے آئے ہیں کہ دائیں ہاتھ سے کھانا سنت ہے۔ ہر کام دائیں ہاتھ سے کرنا چاہئے۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ ہم اپنے نبیۖ کی سنت پہ پیرا عمل ہوں اور ان کے سب احکامات جانیے۔ کنیئرڈ کالج ہاسٹل میں قیام کے دوران جب سب لڑکیوں نے لنچ یا ڈنر کرنا تو کچھ لڑکیوں کا کام ہوتا تھا کہ انہوں نے مجھے بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے دیکھ کے ٹوکنا اور کہنا دائیں ہاتھ سے کھانا کھائو۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کرنا اور دائیں ہاتھ سے کھانے کی کوشش کرنا۔ 1998 میں گرل گائیڈ کیمپ کیلئے انگلینڈ آئی اور پھر بھائی کے گھر آئی۔ قسمت نے اس ملک میں رہنا لکھا ہوا تھا۔ آہستہ آہستہ ڈرائیونگ سیکھنی شروع کی۔ اٹھ دفعہ ڈرائیونگ ٹیسٹ فیل کرنے کے بعد بالآخر ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کر لیا اور بچوں کو سکول اور نرسری اور Child minder کے پاس سے لانے لے جانے میں آسانی پیدا ہوئی۔ لیکن آہستہ آہستہ احساس ہوا کہ ڈرائیونگ میرے بس کا روگ نہیں ہے۔ میں نے مڑنا دائیں ہاتھ ہوتا تھا اور اشارہ بائیں ہاتھ کا دے دتی تھی یا اشارہ دائیں ہاتھ پہ لگاتی مگر مڑنا بائیں ہاتھ مقصود ہوتا تھا۔ پھر احساس ہوا کہ Dual carriggeway اور موٹروے پہ گاڑی چلانے کا میں تصور بھی نہیں کر سکتی کیوں Lane تبدیل کرتے ہوئے دائیں بائیں کی غلطی زندگی موت کی غلطی ثابت ہو سکتی تھی۔
لندن میں قیام کے دوران اگر کسی مشاعرے یا پروگرام سے گھر واپسی پہ کوئی دوست شاعر یا ادیب گھر تک چھوڑ جاتا تو اس پہ لندن کے چند گھٹیا لوگوں نے الگ سے کہانی تیار کر لی۔ تیز دھوپ یا موسلا دھار بارش میں بس سٹاپ پہ کھڑے ہونا، بس کے انتظار میں گاڑی نہ چلا سکنے کی کمی شدت سے محسوس ہوتی۔ کسی شادی بیاہ پہ جانا بھی بہت مشکل کام نظر آتا کیونکہ شادی ہال عموماً شہر سے دور ہوتے ہیں یا پاس ہوں بھی تو شادی اتنی دیر سے ختم ہوتی ہے کہ ٹیکسی پکڑ کے گھر جانا بہت مہنگا ثابت ہوتا کہ پبلک ٹرانسپورٹ بند ہو چکی ہوتی اور اس طرح دوستوں عزیزو کی اور ان کے بچوں کی شادیاں اٹینڈ کرنے سے بھی جاتی رہی۔ دوسرا بڑا مسئلہ نقشے یا Tom Tom کو Follow کرنے کا ہوا۔نقشے کو دیکھ کر کسی جگہ جانا بہت مشکل ہوتا کیونکہ سمجھ نہ آیاتھا کہ یہ دائیں مڑنا ہے یا بائیں۔ شروع شروع میں گاڑی چلانی شروع کی گھر سے باہر الفورڈلین لندن پہ پوری چنے لینے گئی تو واپسی پہ Tom Tom تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک الارم سا بجانے لگ گیا۔ مجھے سمجھ نہ آئی گھر کے باہر آ کے گاڑی روکی تو پیچھے سے سادہ کپڑوں میں ملبوس ٹریفک پولیس والے آ گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم اتنی دیر سے ہارن دے رہے تھے تو تم نے گاڑی کیوں نہیں روکی۔ میں نے بتایا کہ میں اسے Tom Tom سمجھ رہی تھی۔ انہوں نے کہا تم ایک طرف کا اشارہ دے کے دوسری طرف مڑ رہی تھی۔ Bus lane میں گاڑی چلا رہی تھی اور ہم سمجھ رہے تھے کہ کوئی شراب پی کے گاڑی چلا رہی ہے تمہیں پتہ ہے کہ تم سڑک پہ کیا کر رہی تھی۔ میں نے انہیں بتایا معذرت میں دائیںبائیں میں الجھ جاتی ہوں۔ آئندہ خیال رکھوں گی مگر چند ماہ کے دوران ہی پھر مجھے روکا گیا کہ میں پھر سڑک پہ ہی کچھ کر رہی تھی اور میں نے اس کے بعد پوری عمر گاڑی چلانے سے توبہ کر لی۔ سنت نبویۖ کی تلقین اپنی جگہ، نبیۖ کا پیار، ہم سب مسلمانوں کے دل میں موجود ہے اور ہم انہیں اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں لیکن اگر ہمارے نبیۖ بائیں ہاتھ سے کھاتے کھاتے اور ہر کام بائیں ہاتھ سے کرتے تو کیا ہم سارے مسلمانوں کیلئے دائیں ہاتھ کا استعمال ناگزیر کر دیتے جبکہ سائنس ثابت کر چکی ہے کہ انسان اپنے دائیں بائیں ہاتھ کا استعمال اپنی مرضی سے نہیں کرتی بلکہ اس کے دماغ کو اللہ نے بنایا اس طرح ہوتا ہے کہ وہ دائیں یا بائیں ہاتھ کا استعمال اس کے مطابق کرتا ہے۔
کیا مسلمان ہونے کے ناطے ہم لوگوں کی زندگیاں آسان بنانے کے بجائے مشکل کرتے رہیں گے۔ لندن میں قیام کے دوران میں اپنی کمپنی کی بہترین Employee تھی مگر گاڑی نہ چلا سکنے کے باعث وہ مجھے پرموٹ نہیں کر سکتے تھے اور یہ کمی مجھے ہر دفعہ پیچھے دھکیل دیتی تھی۔ لندن کے چند بد فطرت افراد نے چند قریبی دوستوں سے لفٹ لینے کی بات اور چند گھٹیا باتیں خط میں لکھ کے میرے بچے چھیننے، شاعری چوری کرنے، کالم ہتھیانے کی منصوبہ بندی کی اور مجھے پاگل خانے بھیجنے کی تیاری کی جس کا اعتراف لندن کے سیاستدان، سائیکاٹرسٹ اور ایک اسائلم میکر نے بعد میں کر لیا۔ ہم سب ایک دوسرے کو دائیں بائیں ہاتھ میں الجھا کے انہیں زندگی کے ہر میدان سے کتنا پیچھے دھکیل رہے ہیں اس کے بارے میں سوچئے اور لوگوں کی زندگی آسان بنائیں نہ کہ انہیں ایک الجھن میں الجھا کر زندگی بھر کیلئے الجھا دیں۔