کالم و مضامین/Articles

ہم ہرگز ایسے نہیں

تحریر: خالد غورغشتی

ہم ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کا ہرگز حق نہیں دَباتے، نہ ان کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھتے ہیں اور نہ کبھی ہم نے کسی کو چھیڑا، ہم تو بڑے سِیدھے سَادھے لوگ ہیں۔ چُوں کہ ہماری اکثر دُکانوں پر مَکّہ و مَدِینہ لکھا ہوتا ہے؛ اس لیے ایمان داری میں ہم دُنیا بھر میں سرفہرست ہیں۔ ناپ تول میں کمی کا تو آج تک ہمارے تاجروں کے ذہنوں میں تصور بھی نہیں اُبھرا۔ ہم ہر چیز سرکاری نرخوں پر فروخت کرتے ہیں؛ حتیٰ کہ جسم بھی، اس لیے لین دین کے معاملے میں ایک روپے کی اُونچ نیچ آج تک ہم سے برداشت نہ ہو سکی۔

جُھوٹ، غِیبت، چُغلی، حَسّد، چوری، جُوا، سود، بَدکاری، وغیرہ جیسے قبیح گناہوں کا ہمارے ہاں تصور تک موجود نہیں۔ آج تک کسی کو خیال تک نہ آیا کہ یہ بھی کوئی گناہ ہیں۔ چُوں کہ ہم بڑے مذہبی وَضع قَطع کے لوگ ہیں، اس لیے نہ صرف حرام کھانے کو بُرا سمجھتے بلکہ اس کے بارے میں سُوچِنے کو بھی حرام گردانتے ہیں۔

آج تک ہم نے قرآن کے خلاف ایک بھی فیصلہ نہیں کیا، نہ ہم کسی فرقے کی حمایت کرتے ہیں؛ نہ کسی جماعت کی۔ اس لیے جب تک ہم کسی بھی معاملے میں قرآن کو سر پر اٹھانے کی قسم نہ کھا لیں، ہمارا ایمان کامل نہیں ہوتا۔ سادگی اور ایمان داری جیسے اوصاف حمیدہ ہمارے اندر کُوٹ کُوٹ کر بَھرّے ہوئے ہیں، اس لیے ہم نے آج تک نہ کسی کا کوئی حق دبایا، نہ کبھی کوشش کی۔

ہم تو اس قدر خود دار ہیں کہ ایک روپیہ؛ آج تک کسی سے نہیں مانگا، نہ کبھی ہمارا ملک مقروض ہوا؛ نہ عوام کو قرضہ لینے کی ضرورت پڑی۔ ہم تو مانگنے کو گناہِ کبیرہ سمجھتے ہیں، اس لیے آج تک ہم نے دین کے نام پر صرف جیب سے خرچ کیا؛ کبھی کسی سے ایک روپیہ دین کے نام پر چندہ اکھٹا نہیں کیا۔ ہماری مساجد میں آج تک کسی نے کوئی بھکاری نہیں دیکھا، کیوں کہ وہاں چندہ مانگنا سختی سے منع کیا گیا ہے۔

ہم نے آج تک کبھی کسی کی زمین پر ناحق قبضہ نہیں کیا، سرکاری اراضی پر تو بالکل بھی نہیں، حتیٰ کہ سرکاری اراضی کی جگہ کو آج تک ہم نے راستے اور سڑک بنانے کے لیے بھی استعمال کرنے سے گریز کیا اور سب نے مِل جُل کر اپنے اپنے حصے کی شمع جلاتے ہوئے راستوں کے لیے اپنے حصے کی زمین سے جگہ وقف کی۔

ہم دوسروں کی عزّتِ نفس کا بڑا خیال رکھتے ہیں، دوسروں کی ذات پر کیچڑ اُچھالنا تو ہم بارشوں میں بھی راستوں سے گزرتے ہوئے مَعَیُوب سمجھتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کوئی ڈرگز مافیاز، پراپرٹی مافیاز، شوگر مافیاز، سیمنٹ مافیاز اور آٹا مافیاز وغیرہ نہیں؛ ہم تو بڑے بُھولے بَھالے سے لوگ ہیں، ہم گھر میں داخل ہو تو بچے ہمیں بَھالو سمجھ کر کھیلتے ہیں۔

ہم اس قدر سِیدھے سَادے ہیں کہ نہ صرف جیتے جی ہر شخص کا خُوب خیال کرتے ہیں، اس کی ہر ضرورت، ہر مشکل دُور کرتے ہیں، بلکہ کہ مرنے کے بعد بھی اس کا خُوب خیال کرتے ہیں اور اس کے نام کی دیگیں چڑھاتے ہیں، اس کے رہے سہے کارنامے بھی زمانے بھر کو بتاتے ہیں۔

آج تک ہمارے ملک میں جگہ جگہ دودھ اور شہد کی نہریں بہا رہی ہیں، اس لیے کسی نے خودکشی کا سوچا تک نہیں، کبھی خیال بھی آیا تو گھر والوں کی خوشیاں دیکھ کر نہر میں چھلانگ لگانے کا ارادہ ترک کیا۔

ہم اس قدر دیانت دار اور وفادار لوگ ہیں کہ آج تک ہماری مساجد سے جُوتے، گھڑیال، ٹوٹیاں اور جنریٹر وغیرہ باوجود کوششِ بیسار کے کہیں سے چوری ہونے کی اطلاع نہ مل سکی۔

ہمارے اخلاق اس قدر بُلند ہیں کہ آج تک بچے تو رہے بچے بوڑھوں کی زبان سے بھی پھولوں کی مہک کے سوا کوئی خوشبو نہ محسوس ہوسکی۔ ہم صدقِ دل سے محبتیں کرتے ہیں اور نفرتوں کا ہمارے پاس کوئی تصور تک موجود نہیں۔

ہمارے ملک میں کوئی دو نمبری، جعلی ڈگری، جعلی ڈاکٹر، جعلی حکیم، جعلی پیر، جعلی ادویات، جعلی جوس، جعلی شربت، جعلی مصالحے، جعلی انڈے، جعلی کرنسی اور جعلی فیکڑیوں کا تصور تک نہیں پیدا ہو سکا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button