شادی یا نمائش؟ — اسراف کے نیچے دبی زندگیاں

تحریر: عروج عباسی
ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں تعلیم کو بیٹیوں کا زیور سمجھا جاتا ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ یہ زیور بھی اُن کے لیے بوجھ بن چکا ہے۔ جیسے ہی بیٹی اسکول میں داخل ہوتی ہے، والدین پر اخراجات کی ایک طویل فہرست کا آغاز ہو جاتا ہے۔ وہ دل و جان سے بیٹی کو پڑھاتے ہیں، اسے باشعور اور قابلِ فخر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ تعلیم مکمل کرتی ہے، ایک اور کٹھن سفر ان کا منتظر ہوتا ہے: اس کی شادی۔ تعلیم یافتہ بیٹی کی شادی کے تقاضے اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔ نہ صرف اچھا رشتہ درکار ہوتا ہے بلکہ ساتھ میں “معقول جہیز” اور “عزت دار تقریب” کی بھی شرط لگ جاتی ہے۔
اس بوجھ میں سب سے بھاری بوجھ ہمارے خود ساختہ رسم و رواج اور معاشرتی توقعات کا ہے۔ اگر بیٹی پڑھ گئی ہے تو اب اُس کی شادی کے لیے سونے کے زیورات، مہنگے کپڑے، فرنیچر، برتن، الیکٹرانکس، اور دیگر آسائشیں بھی لازم ہو گئیں۔ لڑکی والے بس یہ دعائیں مانگتے ہیں کہ کسی طرح یہ مرحلہ خیر سے مکمل ہو جائے، لیکن ان دعاؤں کے ساتھ ساتھ وہ قرض کے بوجھ تلے دبنے لگتے ہیں۔
یہ سوال اکثر والدین کی آنکھوں میں جھلکتا ہے کہ اگر تعلیم بھی دی، اور پھر جہیز بھی دینا ہے، تو کیا ہم نے اپنی بیٹی کو انسان بنایا یا ایک “پیکج” تیار کیا؟
یہ مسئلہ صرف لڑکی والوں تک محدود نہیں۔ اب لڑکے والے بھی پیچھے نہیں رہے۔ وہ بھی شادی کو سادگی سے کرنے کے بجائے ایک نمائش بنا چکے ہیں۔ بڑے ہال، مہنگی بارات، میوزک، بینڈ، مہندی کی متعدد تقریبات، مہنگی گاڑیوں میں آمد و رفت، اور سوشل میڈیا پر تصویروں کی بھرمار — سب کچھ صرف اس لیے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ یہ “لوگ” کون ہیں؟ وہی جو نہ مشکل وقت میں ساتھ ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی دکھ کی گھڑی میں سہارا بنتے ہیں، لیکن خوشیوں میں عیب نکالنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔
آج کل سادگی کو کمزوری سمجھا جاتا ہے اور اسراف کو فخر کا باعث۔ اگر کوئی شخص سادہ سی تقریب میں بیٹے یا بیٹی کی شادی کرتا ہے تو اُسے طرح طرح کے طعنے سننے کو ملتے ہیں، جیسے: “کوئی مسئلہ تھا؟”، “کیوں اتنی خاموشی سے کی شادی؟”، “کیا بیٹی یا بیٹے میں کوئی کمی تھی؟”۔ یہ معاشرہ نمود و نمائش کو عزت کا پیمانہ بنا چکا ہے، اور حقیقی رشتوں کی گہرائی کہیں پسِ پشت چلی گئی ہے۔
دوسری طرف، کئی شادیاں ایسی بھی ہیں جو بظاہر شاندار ہوتی ہیں، لیکن ان کی بنیاد قرض، دباؤ اور نمائشی توقعات پر رکھی جاتی ہے۔ شادی کا دن تو روشنیوں میں ڈوبا ہوتا ہے، مگر شادی کے بعد زندگی اندھیروں میں ڈھل جاتی ہے۔ جب شوہر بیوی سے توقع کرتا ہے کہ وہ سسرال والوں کی ہر خواہش پوری کرے، جب ساس جہیز کی کمی گنواتی ہے، جب معاشرہ بیٹی کی عزت کو اس کے لائے ہوئے سامان سے جوڑتا ہے، تو وہ رشتہ اندر ہی اندر ٹوٹنے لگتا ہے۔ کئی بار لڑکیاں ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگتی ہیں، اور کچھ گھرانے تو محض اسراف کی وجہ سے برسوں قرض چکاتے رہتے ہیں۔
ایسے حالات میں شادی ایک خوشی کا موقع نہیں بلکہ خوف کا سایہ بن جاتی ہے۔ وہ بیٹی جو ایک روشن مستقبل کی امید لے کر پروان چڑھی تھی، شادی کے بعد طعنوں، تقاضوں اور قرضوں کی زنجیروں میں جکڑ جاتی ہے۔ وہ بیٹا جسے خاندان کی سربراہی سنبھالنی تھی، قرض اتارتے اتارتے خود کو بوجھ محسوس کرنے لگتا ہے۔ اور والدین؟ وہ ساری زندگی یہ سوچ کر گزار دیتے ہیں کہ شاید انہوں نے کچھ کمی کر دی تھی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان روایتوں کو بدلیں، ان خولوں کو توڑیں جو ہم نے خود اپنے گرد بنائے ہیں۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ شادی دو انسانوں کے درمیان ایک پاکیزہ رشتہ ہے، نہ کہ ایک دن کی نمائش۔ اگر ہم واقعی اپنی نسل کو بہتر مستقبل دینا چاہتے ہیں تو انہیں سادگی، اعتدال اور حقیقی محبت کا مطلب سکھانا ہو گا۔ شادی کو آسان، بابرکت اور سادہ بنانا ہو گا تاکہ رشتے مضبوط ہوں، دلوں میں سکون ہو، اور زندگی کا آغاز بوجھ سے نہیں بلکہ دعا سے ہو۔
اللہ پاک ہم سب کو توفیق دے بے جا اسراف کرنے سے پرہیز کرنے کی میرا خیال ہے جتنا خرچہ لڑکے والے فائرنگ اور ڈھول باجے پہ کرتے ہیں جو سراسر پیسے کا ضیاع ہے
اور جو کھانے پہ اتنا خرچہ کرتے ہیں نت نئی ڈشیز جو کھاتے کم اور ضائع کرتے ہیں وہی کسی غریب کے لیے لگا دیں کسی غریب کو دو وقت کا کھانا ہی کھلا دے تو کم سے کم آخرت میں بھی سرخرو ہو سر اٹھا سکے کہ ہمسایا بھوکا نہیں سویا۔