تازہ ترین

کتاب “ چیلنجز اور آگے کا راستہ” کی رونمائی اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں منعقد ہوئی۔

اسلام آباد( پریس ریلیز )کتاب “اکانومی: قومی سلامتی کی ریڑھ کی ہڈی — چیلنجز اور آگے کا راستہ” کی شاندار رونمائی اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ (IPRI) میں منعقد ہوئی۔
پاکستان اور بیرونِ ملک کے 14 مصنفین کے 17 ابواب پر مشتمل کتاب “اکانومی: قومی سلامتی کی ریڑھ کی ہڈی” کی تقریبِ رونمائی اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ (IPRI) میں منعقد ہوئی، جس میں معیشت، بینکاری، سائبر سیکیورٹی، سفارت کاری، توانائی، ٹیکنالوجی اور پالیسی کے ماہرین نے شرکت کی۔
اس موقع پر صدر آئی پی آر آئی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) ماجد احسان نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا:
“پاکستان کی سلامتی اور ترقی کے لیے سب سے اہم ستون معیشت ہے۔ آج کا دور محض عسکری طاقت پر انحصار کا متحمل نہیں ہو سکتا، قومی سلامتی کا مفہوم بدل چکا ہے۔ معیشت ہماری دفاعی، سفارتی اور داخلی پالیسیوں کی بنیاد ہے۔ پائیدار استحکام صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم ادارہ جاتی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں۔ آئی پی آر آئی کو اس بات پر فخر ہے کہ اس نے ایک ایسی کتاب کی اشاعت ممکن بنائی ہے جو پاکستان کے لیے نئی سمت تجویز کرتی ہے، اور ہمیں فائر فائٹنگ کے کلچر سے نکال کر ریزیلینس کی طرف لے جاتی ہے۔”
کتاب کے مدیرِ اعلیٰ ڈاکٹر انیل سلمان نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ “2025 کی استحکام نے ہمیں سانس لینے کی مہلت دی ہے—یہ منزل نہیں، ایک کھڑکی ہے۔ فائر فائٹنگ کا وقت گزر چکا؛ اب ریزیلینس کی تعمیر ضروری ہے۔”
ڈاکٹر انیل سلمان نے واضح کیا کہ ریزیلینس صرف اعداد و شمار کا نام نہیں؛ کاشتکار کی بے خوفی، چھوٹے کاروبار کی نمو، نوجوانوں کی جدّت اور خواتین کی قیادت اس کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل کی جنگیں ٹینکس سے نہیں بلکہ ٹیرف، پابندیوں اور الگورتھمز سے لڑیں جائیں گی، اور موسمیاتی آفات ہر بار ہماری معاشی نقشہ بندی نئی کرتی ہیں۔ کتاب یہ دکھاتی ہے کہ مصنوعی ذہانت، بایو ٹیک، گرین انرجی اور ڈیجیٹل تجارت کے ذریعے پاکستان کمزوری کو قیادت میں بدل سکتا ہے۔ انہوں نے سی پیک، گوادر اور علاقائی تجارت کو خود مختاری کے لیورز قرار دیا اور زور دیا کہ ریزیلینس صرف اشرافیہ نہیں، ہر شہری کی ملکیت ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر سلمان نے شریک مدیران اور تحریمی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب صرف متن نہیں، “ایک عہد” ہے۔ انہوں نے اپنی ٹیم (منیب، باسط اور شیراز)، ڈیزائنر محترمہ صالحہ اور ویڈیوگرافر سعد کی خدمات کو سراہا۔

سائبر سیکیورٹی: معیشت کی محافظ دیوار
مصنف صدّیق ہمایوں نے اپنے باب “Cybersecurity & Economic Security: The Digital Nexus of Vulnerability” پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی بے مثال مواقع کے ساتھ بڑے خطرات بھی لائی ہے۔ انہوں نے CIA ٹرائڈ—کانفیڈینشیئلٹی، انٹیگریٹی، اور اویلیبیلٹی—کی اہمیت واضح کی اور تکنیکی کمزوریاں، ادارہ جاتی خلا اور انسانی عناصر کو تین بنیادی کمزوریاں قرار دیا۔ ان کے مطابق: قومی سائبر پالیسی (2021) کے تحت تین سطحی CERT نظام 2024 میں فعال ہوا؛ کلاؤڈ برسٹ پالیسی (2022) درست سمت میں قدم ہے؛ مگر متحدہ قانونی فریم ورک، مہارتوں میں سرمایہ کاری، باقاعدہ پن-ٹیسٹنگ اور عوامی آگہی ناگزیر ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کوانٹم کمپیوٹنگ اور AI روایتی رمزنگاری کو چیلنج کر سکتے ہیں، اس لیے پوسٹ-کوانٹم سیکیورٹی کی پیش بندی وقت کی ضرورت ہے۔
قومی شناخت اور بیانیہ: معیشت کے پیچھے انسان
ڈاکٹر خُرّم نے فلسفیانہ زاویے سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ معیشت انسان کے بغیر بے معنی ہے۔ ریاستی شناخت اور سماجی اعتماد کے بغیر خوشحالی کمزور رہتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نئی نسل کے لیے ڈاکٹر علامہ اقبال جیسے جامع اور متحرک ہیروز کو قومی بیانیے کا حصہ بنایا جائے، تاکہ وحدت، خودی اور جدّت معیشتی پالیسیوں کی روح بنیں۔
کرپٹو کرنسی: ایکو سسٹم، شریعہ مشاہدات اور ضابطہ کاری
مرتضیٰ عباس نے کرپٹو سے متعلق باب میں کہا کہ کامیابی کا انحصار ایکسچینجز، کَسٹوڈی، اینالیٹکس اور مستند معلومات پر مشتمل ایکو سسٹم پر ہے۔ کرپٹو کی فریکشنل شرکت مالی شمولیت بڑھاتی ہے اور مارکیٹ کی لیکویڈیٹی بلند ہے، مگر قیمت کے تعین، اتار چڑھاؤ اور آگاہی کی کمی بڑے چیلنج ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ: ریگولیٹری سینڈ باکس میں کنٹرولڈ ٹیسٹنگ کی جائے؛ رول بیسڈ کے بجائے پرنسپل بیسڈ ریگولیشن اپنائی جائے؛ شرعی اصولوں (بالخصوص غرر اور ملکیت/قبضہ) کو سامنے رکھ کر قابلِ عمل ماڈلز ترقی دیے جائیں؛ ابتدا میں وینچر کیپیٹل کے ذریعے ذمہ دار جدّت کی راہ ہموار کی جائے۔
بینکاری شعبہ: کامیابیاں اور کمزوریاں—حقیقت پسندانہ جائزہ
سیّد صائم علی (ذاکر مسعود کی جانب سے) نے بتایا کہ نجکاری کے بعد پاکستانی بینک منافع بخش، اچھی طرح کیپیٹلائزڈ اور لیکوئیڈ ہیں؛ نابکار قرضوں کا تناسب ~6% ہے اور منافع پر انکم ٹیکس 54% تک بڑھا ہے۔ تاہم کم ڈپازٹ-ٹو-GDP، نجی شعبے کو کم قرض فراہمی، 2008 کے بعد نئی سرمایہ کاری کی کمی، اور بہت بڑا غیر رسمی شعبہ سنجیدہ رکاوٹیں ہیں۔انہوں نے نشاندہی کی کہ: کیش اِن سرکولیشن 26–27% تک پہنچ گئی ہے (دنیا میں عموماً 5–6% کے قریب)؛ گزشتہ برسوں میں 95% حکومتی قرض گھریلو بینکوں سے لیا گیا؛ بینکنگ پورٹ فولیو میں حکومت کو قرض کی شیئر ~70% (2008 میں ~35%) تک جا پہنچی؛ اوپن مارکیٹ آپریشنز ~13 کھرب روپے تک بڑھے؛ برآمدات/GDP ~9–10% اور FDI <1% ہے—عالمی انضمام ناگزیر ہے۔ حل کے طور پر انہوں نے ریگولیشنز کی اوور ہالنگ، ڈیجیٹل اپنانے، دیہی و غیر بینکڈ آبادی تک رسائی اور پالیسی تسلسل پر زور دیا۔
پالیسی سمت: بوم-بسٹ سے پائیدار ترقی تک
رانا احسن افضال نے پاکستان کی بوم-بسٹ سائیکل، سَبسیڈیز پر مبنی پوپولزم اور ادھورے IMF پروگرامز کی وجہ سے پیدا ہونے والی ساختی کمزوریوں کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق حالیہ استحکام مہنگائی میں کمی، شرح سود میں نرمی اور ذخائر میں بہتری سے ظاہر ہے، مگر اصل امتحان 4–6% پائیدار ترقی ہے، وہ بھی بغیر کمزور پڑے۔ انہوں نے کہا کہ: ٹیرف لبرلائزیشن کے تحت RDs اور ACDs چار برس میں ختم اور کسٹمز ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ شرح 15% (چار سلاب) کی جانب پیش قدمی کی جا رہی ہے؛ درآمدی متبادل کے بجائے ویلیو ایڈڈ ایکسپورٹس کی حوصلہ افزائی ہوگی؛ FBR اصلاحات، ڈیجیٹائزیشن، ٹیکس بیس کی توسیع، نان فائلرز کا خاتمہ اور مضبوط مقامی حکومتوں کے بغیر ترقی نیچے تک نہیں پہنچے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی سلامتی دراصل عوامی صحت، تعلیم، سماجی یکجہتی اور معاشی شمولیت سے متعین ہوتی ہے؛ دفاع بھی اسی وقت پائیدار ہے جب معیشت اسے سہارا دے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button