ہمارے چند اہم مسائل

تحریر: خالد غورغشتی
شہرِ قائد، جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے، پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی و صنعتی مرکز ہے۔ بدقسمتی سے، پچھلی کئی دہائیوں سے یہ شہر جرائم، بدامنی اور حکومتی نااہلی کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ روز بروز بگڑتے حالات نے نہ صرف کراچی کے باسیوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے بلکہ پورے ملک کے معاشی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جب کراچی جیسے بین الاقوامی تجارتی مرکز کا نظام مفلوج ہو جائے تو ملک بھر کی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہونا ناگزیر ہے۔ ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، راہ زنی، اور ڈکیتی جیسے جرائم نے کاروباری طبقے کو عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے۔ ہمیں فوری طور پر ایک ہمہ جہتی پالیسی مرتب کرنی ہوگی جس کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط، غیر سیاسی اور جوابدہ بنایا جائے، تاکہ شہر میں امن قائم ہو اور تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔ یاد رکھیں، پاکستان کی معیشت کا دل کراچی ہے، اور جب دل ہی کمزور پڑ جائے تو جسم کیسے تندرست رہ سکتا ہے۔
ہمارا دوسرا سنگین مسئلہ اذان اور نماز کے اوقات میں اختلاف کا ہے۔ دین اسلام میں وقت کی پابندی کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ افسوس کہ آج مختلف مسالک کی طرف سے مختلف اوقات میں اذانیں دی جاتی ہیں جس سے اذان کا تقدس مجروح ہوتا ہے اور عوام الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نماز، جو کہ اتحاد کا ذریعہ ہونی چاہیے، انتشار کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے کہ نماز مومنوں پر وقتِ مقررہ پر فرض کی گئی ہے۔ لہٰذا ہماری تجویز ہے کہ پورے ملک میں اذان اور نماز کا ایک وقت مقرر کیا جائے، اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ اس سے نہ صرف نظم و ضبط پیدا ہو گا بلکہ مساجد کو آباد کرنے کا جذبہ بھی بیدار ہو گا۔ یہ مسئلہ صرف دینی نہیں، بلکہ سماجی ہم آہنگی اور قوم کی وحدت کا بھی ہے۔
تیسرا اور اہم مسئلہ درختوں کی کمی اور ماحولیاتی آلودگی کا ہے۔ درخت صرف سایہ یا خوبصورتی ہی نہیں دیتے بلکہ زندگی کی علامت ہیں۔ وہ فضا کو آلودگی سے پاک کرتے ہیں، جانوروں اور پرندوں کو پناہ دیتے ہیں اور بارشوں کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں نہ درخت لگائے جاتے ہیں، نہ لگائے گئے درختوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج درجہ حرارت خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے، پانی کی کمی بڑھ رہی ہے اور ہوا میں آکسیجن کی مقدار کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ ایک خاموش لیکن مہلک تباہی ہے جس کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں ماحولیاتی آگاہی مہمات شروع کرے، شجر کاری کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے، اور ہر شہری کو یہ شعور دیا جائے کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔
چوتھا اہم مسئلہ تعلیم کے معیار اور نظام کی عدم یکسانیت ہے۔ ہمارے ملک میں تعلیم مختلف طبقاتی نظاموں میں بٹی ہوئی ہے — سرکاری اسکول، نجی تعلیمی ادارے، اور دینی مدارس — سب کا نصاب اور معیار جدا ہے۔ اس تقسیم نے نہ صرف قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ بچوں کے ذہنوں میں فرقہ واریت، طبقاتی احساسِ کمتری اور غیر یقینی کی کیفیت کو جنم دیا ہے۔ ہمیں ایک مشترکہ تعلیمی نصاب کی ضرورت ہے جو دین و دنیا دونوں علوم کا متوازن امتزاج ہو، تاکہ ہم ایسی نسل تیار کر سکیں جو جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ دینی شعور بھی رکھتی ہو۔
آخر میں، ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے بنیادی مسائل کو سنجیدگی سے نہ لے۔ یہ ذمہ داری صرف حکومت پر نہیں بلکہ ہر فرد، ہر ادارے، اور ہر باشعور شہری پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اصلاحِ معاشرہ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان مسائل کی سنجیدگی کو سمجھنے، ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنے اور ایک پرامن، صاف، منظم اور ترقی یافتہ پاکستان کی تعمیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔