کالم و مضامین/Articles

قبائلی و پسماندہ علاقوں میں علم کا اجالا

تحریر: عزیز الرحمن

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے پاکستان کے پسماندہ اور قبائلی علاقوں جہاں طویل عرصے تک تعلیم صرف ایک خواب تھی میں علم کی شمع روشن کر دی ہے۔ یہ یونیورسٹی ان علاقوں کے طلبہ کے لیے مفت میٹرک تعلیم فراہم کر رہی ہے جو نہ صرف ایک تعلیمی اقدام ہے بلکہ ایک سماجی انقلاب کی شروعات بھی ہے۔ یہ قدم ان بچوں کے لیے امید کی کرن ہے جنہیں غربت، فاصلے یا وسائل کی کمی نے ہمیشہ تعلیم سے دور رکھا۔یہ پاکستان کے وہ خطے ہیں جہاں قدرتی حسن اپنی انتہا کو چھوتا ہے: گلگت بلتستان کے فلک بوس پہاڑ، بلوچستان کی پُر جلال وادیاں اور قبائلی علاقوں کی سخت مگر پُرعزم زمین۔ ان مناظر کے بیچ کچھ بستیاں ایسی بھی ہیں جہاں نسل در نسل تعلیم کی روشنی نہیں پہنچ سکی۔ ان علاقوں کے بچے خواب تو رکھتے تھے مگر ان خوابوں کی تعبیر کے دروازے بند تھے۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے ان بند دروازوں کو علم کی کنجی سے کھولنے کا بیڑا اٹھایا۔ یونیورسٹی کا سادہ مگر بلند نصب العین ہے”تعلیم ہر دہلیز تک، شعور ہر ذہن تک اور حقِ تعلیم ہر بچے تک۔”یہ ادارہ صرف ایک تعلیمی مرکز نہیں بلکہ ایک فکری تحریک بن چکا ہے جس نے اُن گھروں کے دروازے بھی کھٹکھٹائے ہیں جہاں صدیوں سے جہالت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔گزشتہ خزاں سمسٹر 2024ء میں بلوچستان، گلگت بلتستان اور ضم شدہ قبائلی اضلاع سے 11,691 طلبہ نے داخلہ لیا اور علم کے سفر کا آغاز کیا۔ یہ سب کچھ بغیر کسی فیس، کسی مالی بوجھ یا رکاوٹ کے ممکن ہوا۔اِن علاقوں کے ہزاروں بچے اور بچیاں میٹرک کی مفت تعلیم مکمل کر کے سرٹیفکیٹس حاصل کر چکے ہیں اور کئی مزید اس تعلیمی قافلے میں شامل ہونے کو بیتاب ہیں۔جہاں کبھی بیٹیوں کی تعلیم کو غیر ضروری سمجھا جاتا تھا وہاں اب وہی بیٹیاں کتابیں اور خواب لیے اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ تبدیلی صرف تعلیمی نہیں بلکہ سماجی اور ثقافتی سطح پر بھی ایک انقلابی پیش رفت ہے۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود کا پیغام واضح اور ولولہ انگیز ہے “ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بچہ غربت یا فیس کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہے۔ تعلیم ہر انسان کا حق ہے اور ہم یہ حق ہر کونے تک پہنچائیں گے۔ ہمارا مقصد پیسہ کمانا نہیں بلکہ قوم کو بااختیار بنانا ہے۔”ڈاکٹر ناصر محمود نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ یہ پروگرام مکمل طور پر یونیورسٹی کے ذاتی وسائل سے چلایا جائے گا تاکہ ”پڑھا لکھا پاکستان” کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔یونیورسٹی کی جانب سے تمام علاقائی دفاتر کو ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ وہ گھر گھر جا کر اس مفت تعلیمی سہولت کی آگاہی پھیلائیں، طلبہ کی رہنمائی کریں اور داخلے کے ہر مرحلے میں معاونت فراہم کریں۔یکم جولائی 2025ء سے خزاں سمسٹر کے داخلے شروع ہو رہے ہیں۔ بلوچستان، گلگت بلتستان اور سابقہ فاٹا کے نوجوانوں کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ یہ صرف تعلیم کا موقع نہیں بلکہ ایک نئے کل کی بنیاد ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے ہدایت جاری کی ہے کہ ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں قائم یونیورسٹی کے تمام علاقائی دفاتر (ریجنل آفسز) بھرپور مہم کے ذریعے میٹرک کی مفت تعلیم کے پیغام کو ہر گھر تک پہنچائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سہولت ان علاقوں میں مقیم بچوں اور بچیوں کے روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے جس سے فائدہ اٹھانا ہر طالب علم کا حق ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میٹرک کی سطح پر مفت تعلیم کا یہ انقلابی اقدام نہ صرف تعلیمی مواقع میں اضافہ کرے گا بلکہ معاشرتی ترقی کا ذریعہ بھی بنے گا۔ لہٰذا والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے قریبی علاقائی دفتر سے فوری رابطہ کریں اور داخلے کے عمل کو مکمل کریں۔یونیورسٹی کا یہ مشن ہے کہ تعلیم کی روشنی ہر گھر تک پہنچے اور کوئی بچہ یا بچی صرف وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button