اسرائیلی جارحیت ، بھوک سے 313 فلسطینی شہید

تحریر۔ راجہ شاھد رشید
مزید 76 فلسطینی شہید ہو گئے جن میں 12 افراد امداد کے لیے منتظر کھڑے تھے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی پر قبضے کے لیے ٹینکوں اور جنگی طیاروں سے پورے بلاکس تباہ کر دیے۔ فلسطینی صدر نے اسرائیل کے مغربی کنارے میں جاری خطرناک اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ سے فوری طور پر مداخلت کا مطالبہ کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل مغربی کنارے میں جبری نقل مکانی کے لیے بڑا بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت سے اب تک 62 ہزار 895 فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 56 ہزار 629 زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کی جارحیت اور ناکہ بندی سے پیدا ہونے والی بھوک کے نتیجے میں دو بچوں سمیت مزید 10 فلسطینی شہید ہو گئے۔ اب تک 313 افراد بھوک سے انتقال کر چکے ہیں۔ تازہ واقعات میں اسرائیلی قابض افواج نے رام اللہ، لبیرہ اور الخلیل پر وحشیانہ حملے کر کے فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنایا۔ اسلام دنیا کا بہت بڑا دین ہے اور کسی طور پہ بھی مغلوب ہونے والا دین ہی نہیں ہے لیکن صد افسوس و ماتم کہ عہدِ موجود میں ہم مسلم کیوں مغلوب و محکوم بن کر رہ گئے ہیں۔ پوری مسلم اُمہ کو یہ سوچنا چاہیے کہ آخر ایسا کیوں ہے۔ میری رائے میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کی نظریہ اسلام سے کمنٹمنٹ کافی حد تک کمزور ہے۔ آئیں سبق حاصل کرنے کے لیے آج ہم کارل مارکس نامی ایک دہریٸے کی داستان کو پڑھتے ہیں جو میں نے ایک علمی و ادبی بیٹھک سے چوری کی تھی آپ کے لیے ”مارکس کو یورپ کے تمام یہودی مذہبی پیشواؤں نے خارج المذہب قرار دیا۔ پادریوں نے یہ فتویٰ دے ڈالا تھا کہ جو بھی مارکس کو قتل کرے گا وہ جنت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوگا“۔ اٹھارویں صدی کے انتہائی قدامت پسند یورپین معاشرے میں اپنے نظریات کی وجہ سے مارکس نے 15 سال ایک چھوٹے سے کمرے میں بند ہو کر گزارے۔ مارکس دنیا کا واحد سٹیٹ لیس شخص تھا کہ جب اس کا انتقال ہوا تو دنیا کا کوئی بھی ملک اس کو اپنانے یا اپنے ہاں دفنانے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ مارکس ایک حقیقت پرست، مادیت پسند انسان اور دنیا کی ہزار سالہ تاریخ کا با اثر ترین فلسفی تھا۔ مارکس کے دو بچے پیسے نہ ہونے اور علاج کی سکت نہ رکھنے کی وجہ سے اس دار فانی سے کوچ فرما گئے۔ بالاخر ممتا سے مجبور مارکس کی بیوی جینی بھوک سے بلکتے سسکتے بچوں کو دیکھ کر تڑپ اُٹھی اور چلاتے ہوئے بولی کہ چھوڑ دو یہ کتابیں آپ کے بچے مر رہے ہیں۔ جواب میں مارکس نے کہا کہ کوئی بات نہیں آج اگر میرے دو بچے مر گئے تو لیکن میرے لکھنے سے مستقبل میں کروڑوں بچے بھوک اور بیماریوں سے محفوظ رہیں گے۔ پھر وقت نے ثابت کیا کہ آنے والے وقتوں میں مارکس کا فلسفہ سوشلزم انسانوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوا۔ مارکس کی شہرہ آفاق کتاب داس کیپیٹل کو بے اثر کرنے کے لیے گزشتہ 200 سالوں میں سامراج نے ریاستوں کے ذریعے دو ہزار سے زائد کتابیں تحریر کروائیں لیکن وہ ساری کتابیں داس کیپیٹل کے سامنے بے روح ہو کر دفن ہوتی رہی ہیں۔ کارل مارکس اور اس کی کتاب ”داس کیپیٹل“ 2020ء میں بی بی سی کی طرف سے ہونے والے بین الاقوامی سروے میں پوری دنیا میں اول نمبر پر رہی۔ قارٸین محترم یہ تھا ایک دہریٸے کا اپنے دستور کے ساتھ اخلاص و لگاؤ لیکن ہم تو اس خالقِ کائنات، مالکِ موجودات، رازقِ برحق اور حاکم بالا و اعلیٰ پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ حبیب رب العالمین، خاتم النبیین، سید المرسلین آں حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم کے بتلائے ہوئے صراط مستقیم پر چلنے والے ہیں جنہیں اللہ قادر و قدیر نے اس زمین اور کائنات کی سب سے افضل و مقدس کتاب قرآن مجید فرقان حمید عطا فرمائی جو بلاشبہ سب سے بڑا اور برحق ضابطہِ حیات ہے۔ ہم وہی ہیں جن کے بارے میں علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ نے فرمایا کہ۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
شاہِ اُمم آں حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم کی حدیث کا مفہوم ہے کہ سارے عالم کے مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں. جب کسی ایک حصے میں تکلیف ہوگی تو پورا جسم درد محسوس کرے گا. عصر حاضر میں نہ صرف فلسطین اور کشمیر بلکہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ہمیں متحد ہو کر ان کے خلاف نوائے حق بلند کرنی چاہیے۔ آج مسلم اُمہ کو نہ صرف جہاد بلکہ اجتحاد و اتحاد کی بھی بہت ضرورت ہے۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے سائل سے لے کر تا بہ خاکِ کاشغر
بفضل اللہ اس دنیا کے ہر حصے میں اور تمام نظریہ ہائے فکر و مذاہب میں ایسے زندہ دل لوگ ضرور موجود ہیں جو خاموش نہیں رہ سکتے ہر ظلم و جبر کے خلاف ضرور بولتے ہیں۔ 209 سے زائد یورپی سابق سفارتکاروں، 110 سفیروں اور 25 اعلیٰ سطح کے ڈائریکٹرز نے یورپی یونین کے اداروں کو ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں غزہ جنگ فوری روکنے کے لیے عملی اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔ کینیڈین فوٹو جرنلسٹ ویلیری زنک نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نیوز ایجنسی سے یہ کر کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ یہ ادارہ اسرائیل کے پروپیگنڈے کو تقویت دے کر غزہ میں صحافیوں کے قتل میں براہ راست شریک ہے۔ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ کے اسرائیلی دفاعی افواج کے ساتھ تعلقات کے خلاف جاری احتجاج میں مظاہرین نے کمپنی کے صدر بریڈ سمتھ کے دفتر پر قبضہ کر لیا۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکہ کے نمائندہ خصوصی سٹیووٹکوف نے کہا کہ ہم غزہ کی جنگ یقینا اس سال کے اختتام سے پہلے کسی نہ کسی طریقے سے ضرور ختم کرا دیں گے۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔ آمین.