حکومت اکادمی ادبیات، ادارہ فروغ اُردو کو کسی اور ادارے میں ضم نہ کرے، راجہ شاہد رشید
ادبی اداروں کا خاتمہ معاشرے کو فحاشی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے ۔ ہم ادبی ادارے ختم نہیں کرنے دیں گے، نیشنل پریس کلب میں احتجاجی مظاہرے میں گفتگو

اسلام آباد (برجستہ نیوز) سابق مشیر و ممبر ورلڈ کالمسٹ کونسل راجہ شاھد رشید نے احتجاجی مظاہرے میں صحافتی، علمی و ادبی تنظیموں کی قیادت کی اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ راٸٹ سائزنگ کمیٹی کی سفارشات درست نہیں اگر ان پر عمل کرنے کی کوشش بھی کی گئی تو ہم اہل فکر و ادب پورے ملک میں شدید احتجاج کریں گے۔ نامور ادیبہ محترمہ فرحین چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام تمام علمی و ادبی اداروں کو ٹھپ کرنے کا فیصلہ صریحاً ظلم ہے، محترمہ محمود غازیہ، ضیا الحق سرحدی، ڈاکٹر شاکر کنڈان اور منفرد لب و لہجے کی شاعرہ محترمہ رفعت انجم نے بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ ملک کے ممتاز دانشور و کالم نگار مفکر پٹھوار راجہ شاہد رشید نے کہا کہ یہ قلم اور اہل قلم کا قتل ہوگا، کیوں یہ”شوباز“حکومت ادیب کو اور غریب کو مارنے کے درپے ہے، انہوں نے کہا کسی بھی صورت میں ہم ادارہ فروغ قومی زبان، اکادمی ادبیات پاکستان، اردو سائنس بورڈ اور اردو لغت بورڈ کو ختم، کمزور یا ضم نہیں ہونے دیں گے۔