Sports

اوول کرکٹ ٹیسٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ انگلینڈ 301 ،4 کھلاڑی آوٹ، 367 آل آؤٹ

دنیائے کرکٹ میں ،،میچ فکسنگ،، کی صدائیں

محمد عمر
انڈیا نے انگلینڈ کو پانچویں کرکٹ ٹیسٹ می ں6 رنز سے شکست دے، کر ، سیریز تو برابر کردی لیکن جو لوگ کرکٹ کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ جیت ، آئی پی ایل کے صدقے انڈیا ٹیم کے حصہ میں آئی ، ایک موقعہ پر انگلینڈ کے 301 پر 4 کھلاڑی آوٹ تھے، ہیری بروک اور جو روٹ انڈین باولنگ کو حلوہ سمجھ رہے تھے، پھر کیا ہوا کہ پوری ٹیم 66 رنز میں آوٹ ہو گئے، دنیائے کرکٹ میں ایک بار پھر فکسنگ کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں ،جب سے انڈیا میں آئی پی ایل شروع ہوئی، دنیا بھر کے بڑے بڑے، اسٹار کھلاڑیوں نے انڈین پریمیر لیگ ( آئی پی ایل ) کی ملازمت کر لی، انگلینڈ کے تمام ستارز بین سٹوک، کرالے، بوکٹ، ووکس، جو روٹ، ہیری بروک، انڈیا کی مختلف ٹیموں کی طرف سے انڈین کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں، یعنی یہ تمام سٹارز ,انڈین کھلاڑیوں بمرا، سراج، جادیجہ، گل، سندر کے ساتھ مختلف ٹیموں میں ان کے کولیگ کے طور پر کھیلتے ہیں، آئی پی ایل سے ان کو جتنے پیسے صرف ستائیس اٹھائیس دن کھیلنے کے ملتے ہیں اتنے ان کو پورا سال اپنے ملک کی طرف سے جان لڑانے کے عوض بھی نہیں ملتے، کھلاڑیوں سے زیادہ انڈین ٹیم کے ساتھ وفاداری کا ثبوت ایمپائر حضرات دیتے ہیں، آئی پی ایل میچوں کیلئے دنیا کے تمام مشہور زمانہ ایمپائرز کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں جن کو کھلاڑیوں کے برابر معاوضہ دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بظاہر یہ نیوٹرل ایمپائرز انڈیا کے ساتھ میچوں کے دوران نیوٹرل نہیں رہتے، بے شمار شواہد موجود ہیں کہ جب بھی تھرڈ ایمپائر سے ری ویو لیا گیا تو 90 فیصد فیصلہ انڈین ٹیم کے ہی حق میں آیا، شائقین کو 2023 کے عالمی کپ کا وہ منظر یاد ہوگا جب کیمرے کی آنکھ نے انگریز ایمپائر کی چوری پکڑ لی جو اشارہ سے انڈین ٹیم کو ری ویو لینے کیلئے کہہ رہا تھا،
اور
جب سے انڈین کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ ،جے شا ،انٹر نیشنل کرکٹ کونسل آئی سی سی کے صدر بنے ہیں ، آئی سی سی ، انڈین کرکٹ کی باندی بن کر رہ گئی ہے، انگلینڈ، انڈیا پانچویں ٹیسٹ کے دوران جب انگلینڈ کو جیت کیلئے صرف 35 رنز درکار تھے اور 4 وکٹ باقی تھے تو خراب روشنی کا جواز بنا کر کھیل روک دیا گیا ، حالانکہ ایسے موقع پر بولنگ سائیڈ سے کہا جاتا ہے کہ تیز باؤلرز کی بجائے اسپنرز لگا دئیے جائیں ، اس صورت میں انگلینڈ کے کھلاڑی چھکے چوکوں کی مدد سے اسکور پورا کر دیتے، ایمپائرز نے کھیل اگلے دن تک ملتوی کر دیا، آخری روز بھی روشنی بہت خراب تھی ،اس صورت میں میچ شروع کرنا ہی نہیں بنتا تھا، اگر شروع کیا تھا تو تیز گیند بازوں کی بجائے اسپنرز سے بالنگ کرائی جاتی،ایسا کچھ نہیں ہوا اور آخری روز انگلینڈ کے کھلاڑی 35 رنز بھی نہ بنا سکے اور 4 وکٹ 28 رنز کے اضافے سے گر گئے، چوتھے روز جب کھیل خراب روشنی کا بہانہ بنا کر روک دیا گیا تو ایک ٹی وی مبصر نے برملا طور پر کہہ دیا تھا کہ ،دال میں کچھ کالا موجود ہے ،آئی سی سی کے انڈین سربراہ جے شاہ لندن میں ہی موجود ہیں، وہ راتوں رات کوئی کرشمہ سازی کر جائیں گے اور انگلینڈ کی ٹیم بخوشی میچ ہار جائے گی،اور ایسا ہی ہوا
انگلینڈ کے کھلاڑیوں کی باڈی لینگویج، پانچویں ٹیسٹ میں بڑی مشکوک نظر آئی , انڈیا ٹیم کو پہلی اننگز میں 224 پر آوٹ کرنے کے بعد انگلینڈ کے افتتاحی کھلاڑی اسکور کو 94 تک لے گئے تھے، لگ رہا تھا کہ میزبان ٹیم بڑی لیڈ حاصل کر لے گی مگر ایسا نہیں ہوا، سراج کے ایک پی اسپیل میں کرالے، روٹ، بروک کی وکٹیں گر گئیں، اور انگلینڈ صرف 23 رنز کی سبقت ہی حاصل کر سکی، دوسری اننگز میں انڈین ٹیم کے اسکور کو 396 تک لے جانے میں انگریز فیلڈرز کا بڑا ہاتھ تھا، جنہوں نے 20 کے انفرادی اسکور پر جیسویل کا کیچ چھوڑا اور وہ سنچری کر گئے، ان کے ساتھی کھلاڑی کے دو کیچ چھوڑے گئے، آکاش دیپ نے نائٹ واچ مین کے طور پر 66 رنز بنائے مگر برطانوی فیلڈرز کی مدد سے جنہوں نے چوتھے روز کھیل کے آغاز میں ہی ان کا کیچ گرا دیا، پھر
انڈیا کے کھلاڑی سندر نے آخری وکٹ پر صرف 13 گیندوں پر 39 رنز بنا دئیے، سارے فیلڈرز باؤنڈری پر اور وہ چھکے لگا رہے تھے,، برطانوی کھلاڑی اپنی وکٹ پر اتنے بے بس نہ ہوتے ،اگر ان سب کھلاڑیوں کا ذریعہ معاش آئی پی ایل نہ ہوتا،
کرکٹ میں سپورٹس میں سپرٹ کی باتیں، اب خواب لگتی ہیں، بس قارئین 2024 میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا فائنل یاد کر لیں جب تھرڈ ایمپائر نے جنوبی افریقہ کے کھلاڑی مک ملن کے چھکے کو آوٹ میں تبدیل کر کے ، ٹرافی جنوبی افریقہ کے بجائے انڈیا کو تھما دی تھی، ایسے تماشے ہوتے رہیں گے مگر کب تک ؟

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button