کالم و مضامین/Articles

نبی آخر الزماں”محمد صلى الله عليه واله وسلم“

تحریر۔ راجہ شاہد رشید

اللہ حاکمِ برحق فرماتے ہیں کہ ”بے شک شرک عظیم ظلم ہے“۔ پھر ایک اور مقام پر مالکِ موجودات ، خالقِ کائنات نے فرمایا کہ ”مشرکین کو یہ حق نہیں کہ اللہ کی مساجد آباد کریں اپنے پر کفر کی گواہی دیتے ہوئے“۔ یہ بات واضح رہے کہ ان آیات مبارکہ میں شرک سے مراد ہر کفر ہے کیوں کہ کوئی بھی کفر بخشش کے لائق نہیں ہے۔ ہمارا دین ہمیں قرآن فہمی کا درس دیتا ہے یعنی نہ صرف پڑھنے بلکہ پڑھ کر سمجھنے کی بھی تلقین فرماتا ہے لیکن یار لوگ ترجمہ پڑھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے ۔ اگر ہم قرآن مجید فرقان حمید کے موضوعات کو بغور دیکھیں تو نتیجتاً سب سے زیادہ توحید پر قائم رہنے اور شرک سے دور رہنے کے اسباق ہی ملتے ہیں۔ بلاشبہ شرک گناہ کبیرہ ہے جبکہ توحید ہی تو دین اسلام کی بنیاد ہے ۔ میں نے گزشتہ دنوں ایک دینی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام انبیاء علیہ السلام نے سب سے بڑھ کر تبلیغِ توحید فرمائی ہے ۔ توحید کا راستہ ہی تو صراط مستقیم ہے پھر کیوں ہم شرک گمراہیوں میں گرتے جا رہے ہیں ۔ صد افسوس کہ صوفیوں کے مزارات و آستانے شرک کے کارخانے بن گئے ہیں ۔ ہمارے مشائخ اور مولوی حضرات نیاز نذرانوں اور چندوں کے چکروں میں ہی رہتے ہیں ۔ یہ لوگوں کو عرس و میلے ، میلاد و مجلس و مناظرے اور دسواں ، گیارہویاں ، اس کے علاوہ چہلم و ماتم تو ضرور پڑھاتے ، بتلاتے اور مناتے و منواتے ہیں مگر اقامتِ دین کی بات ہرگز نہیں کرتے اور نہ ہی نفاذ دین کے لیے نکلتے ہیں ۔ یہ دینِ اسلام کو محض ایک مذہب ہی سمجھ بیٹھے ہیں ، بحیثیت دین نہیں دیکھتے یعنی بطور نظام نہیں اپناتے اسلام کو ۔ سوچنا یہ ہوگا کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا آئین ، قرآن کا قانون کیوں نافذ نہیں ہے ۔ در حقیقت قرآن کا قانون ہی کامرانی کی کُنجی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سبھی مسالک و مکتبہ ہائے فکر کے پیر مولوی سب سے بڑھ کر اور بطور خاص عقیدہ توحید کا ، اقامتِ دین کا درس دیں۔ توحید کے ساتھ ساتھ عقیدہ رسالت بھی ہر مسلم کے لیے لازم و ملزوم ہے ۔ دین کہتا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ سیرتِ محمد صلى الله عليه واله وسلم کے حوالے سے بہت سی کتب موجود ہیں لیکن حال ہی میں اس ضمن میں جناب جبار مرزا کی ایک اچھوتی اور منفرد کتاب ”محمد صلى الله عليه واله وسلم“ شائع ہوئی ہے، جس کا انتساب قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے چیئرمین علامہ عبدالستار عاصم اور بیگم کنول عاصم صاحبہ کے نام ہے۔ قارٸین کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بہت ہی ضروری ہے اور کتاب ملنے کا پتہ ہے۔ قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، 03000515101 ، یثرب کالونی، بینک سٹاپ، والٹن روڈ لاہور کینٹ پاکستان. بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعرہ محترمہ فرحین چودھری اپنے تاثرات میں لکھتی ہیں کہ”یہ کتاب محض ایک کتاب نہیں علم و نور کا سمندر ہے۔ میری خوش قسمتی کہ میں چند الفاظ اس کے بارے لکھ رہی ہوں ۔ قلم کانپ رہا ہے اور پلکیں نم ہیں۔ جبار مرزا کی شخصیت کا کھلا ڈلا پن اور رسول پاک سے محبت ہر ستر میں جھلکتی ہے ۔ اپنی تصنیف ”محمد صلى الله عليه واله وسلم“ کے ذریعے انہوں نے 1400 سالہ اسلامی تاریخ کے علاوہ عرب کی صدیوں پرانی تاریخ و تہذیب کو مستند حوالوں کے ذریعے درست بھی کیا ہے ۔ اور اتنے دلچسپ انداز میں کہ کتاب کو ہاتھ سے چھوڑنے کو دل نہیں کرتا ۔ میں تو یہ کہوں گی کہ اس کتاب کو پاکستان کے ہر سکول کالج بلکہ ہر پروفیشنل ادارے کے نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ ”محمد صلى الله عليه واله وسلم“ اس قدر جامع اور بھرپور کتاب ہے کہ دل و دماغ کی سب کھڑکیاں کھول دے گی“۔ ملک کے ممتاز دانشور و کالم نگار اور ماہنامہ ہلال کے مدیر ڈاکٹر یوسف عالمگیرین فرماتے ہیں کہ”معروف شاعر، منفرد کالم نویس و نثر نگار جناب جبار مرزا ہمیشہ اپنے قارٸین کو کوئی نہ کوئی سرپرائز دیتے رہتے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے کتاب شائع ہونا اور اس کتاب کے حوالے سے چند حروف قلمبند کرنا بھی ایک سعادت ہی ہے ۔ جناب جبار مرزا نے یہ جو کتاب لکھی ہے یہ اپنے اسلوب اور انداز بیاں کے اعتبار سے ایک منفرد تصنیف کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ یہ کتاب ہر عمر اور ہر طبقہ فکر کے حوالے سے موثر ہے ۔ خصوصاً نوجوانوں کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے کہ ایسی کتب ان کی زندگیاں بنانے اور سنوارنے کا کام کرتی ہیں“۔ ملک کے معروف اور مستند اشاعتی ادارے قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے چیئرمین علامہ عبدالستار عاصم اپنے تاثرات میں کہتے ہیں کہ” جناب جبار مرزا نے ساری زندگی قلم و قرطاس کی پاسبانی کی ہے ۔ درجنوں کتب کے خالق ہیں ۔ ان کا حلقہ احباب دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے ۔ قارئین ادب ان کی کتب کا شدت سے انتظار کرتے ہیں ۔ ”محمد صلى الله عليه واله وسلم“ نامی اس کتاب میں پہلی بار سیرت کی کتب میں درج ضعیف واقعات کا دلیل کے ساتھ رد کیا گیا ہے ۔ امت محمدیہ پر مصنف کا یہ احسان ہمیشہ زیر بحث رہے گا ۔ سیرت کے گلستان میں یہ کتاب ایک ایسا خوبصورت اضافہ ہے جو قارئین کے دل اور روح پر اثر پذیری دکھائے گا۔ انشاءاللہ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button